أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَكَانَ قَاضِيًا، فَأَتَاهُ قَوْمٌ يَخْتَصِمُونَ فِي مِيرَاثِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا فُكَيْهَةُ بِنْتُ سَمْعَانَ، فَجَعَلَ هَذَا يَقُولُ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانِ بْنِ سَمْعَانَ، وَيَقُولُ هَذَا: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانِ بْنِ سَمْعَانَ، فَلَمْ يَفْهَمْ، فَقَالَ رَجُلٌ: فَكَتَبَ قِصَّتَهُمْ فِي صَحِيفَةٍ ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَرَأَهَا، فَقَالَ: نَعَمْ قَدْ فَهِمْتُ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " قَضَى فِي أَهْلِ طَاعُونَ عَمْوَاسٍ أَنَّهُمْ إِذَا كَانُوا مِنْ قِبَلِ الْأَبِ سَوَاءً فَبَنُو الْأُمِّ أَحَقُّ بِالْمَالِ، فَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ أَقْرَبَهُمْ بِأَبٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْمَالِ ".محمد بن سیرین فرماتے ہیں: میں عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور وہ قاضی تھے، ان کے پاس لوگ آئے، وہ ایک عورت کی وراثت کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے، اس کا نام فکیہہ بنت سمعان تھا، ایک کہنے لگا: میں فلاں بن فلاں بن سمعان ہوں اور دوسرا کہنے لگا: میں فلاں بن فلاں بن سمعان ہوں، ابن عتبہ نہ سمجھ سکے، ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے ان کا قصہ ایک کاغذ پر لکھا پھر وہ ابن عتبہ کے پاس لایا، انہوں نے کہا: میں سمجھ گیا ہوں، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہل طاعون عمواس کے بارے میں بیان کیا کہ جب وہ باپ کی جانب سے برابر ہوں تو ماں کی اولاد مال کی زیادہ حق دار ہے، اگر ان میں سے کوئی ایک باپ کے زیادہ قریب ہو تو وہ مال کا زیادہ حق دار ہے۔