السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: فرض الزوج والزوجة باب: شوہر اور بیوی کے مقررہ حصوں کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا شَبَابَةُ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " إِنَّ الْأَخَوَيْنِ لَا يَرُدَّانِ الْأُمَّ عَنِ الثُّلُثِ، قَالَ اللهُ {فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ} [النساء: ١١] فَالْأَخَوَانِ بِلِسَانِ قَوْمِكَ لَيْسَا بِإِخْوَةٍ " فَقَالَ عُثْمَانُ: لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ مَا كَانَ قَبْلِي، وَمَضَى فِي الْأَمْصَارِ وَتَوَارَثَ بِهِ النَّاسُ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي أَبَوَيْنِ وَإِخْوَةٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا حَجَبَ الْإِخْوَةُ الْأُمَّ مِنَ الثُّلُثِ؛ لِيَكُونَ السُّدُسُ لَهُمْ، وَهُوَ بِخِلَافِ قَوْلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَغَيْرِهِ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے کہ دو بھائی ماں کو ثلث سے دور نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ﴾ [سورة النساء: 11] پس دو بھائی «إِخْوَان» تیری قوم کی زبان میں «إِخْوَة» نہیں ہیں تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا کہ میں رد کروں جو مجھ سے پہلے تھا اور گزر چکا اور لوگ اس کے وارث بن چکے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے والدین اور بھائیوں کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے کہا: بھائی ماں کو ثلث سے صرف اس لیے روکتے ہیں تاکہ سدس ان (بھائیوں) کے لیے ہو، اور یہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ وغیرہ کے قول کے خلاف ہے۔