حدیث نمبر: 12298
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " فِي السُّدُسِ الَّذِي حَجَبَهُ الْإِخْوَةُ أُمَّهُ، هُوَ لِلْإِخْوَةِ وَلَا يَكُونُ لِلْأَبِ، إِنَّمَا نُقِصَتْهُ الْأُمُّ لِيَكُونَ لِلْإِخْوَةِ " قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: وَبَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُمُ السُّدُسَ، فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي أُعْطِيَ إِخْوَتُهُ السُّدُسَ، فَقَالَ: بَلَغَنَا أَنَّهَا كَانَتْ وَصِيَّةً لَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ

طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سدس کے بارے میں کہا کہ جس سے ماں کو بھائی روک دیتے ہیں وہ بھائیوں کے لیے ہے نہ کہ باپ کے لیے ہے۔ ماں کے حصہ سے کمی کی جاتی ہے اور وہ بھائیوں کے لیے ہوتا ہے۔
ابن طاؤس فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے ان کو سدس دیا ہے، میں اس آدمی کی اولاد میں سے کسی کو ملا جس کے بھائی کو سدس دیا گیا، اس نے کہا: ہمیں پتہ چلا تھا کہ ان کے لیے وصیت تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12298
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»