السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث من عمي موته باب: جس شخص کی موت پوشیدہ رہی (جس کے مرنے کا علم نہ ہو سکا) اس کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12254
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ، ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ وَابْنَهَا زَيْدًا " وَقَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، وَالْتَقَتِ الصَّائِحَتَانِ فَلَمْ يُدْرَ أَيُّهُمَا هَلَكَ قَبْلُ، فَلَمْ تَرِثْهُ وَلَمْ يَرِثْهَا، وَأَنَّ أَهْلَ صِفِّينَ لَمْ يَتَوَارَثُوا، وَأَنَّ أَهْلَ الْحَرَّةِ لَمْ يَتَوَارَثُوا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹے زید رضی اللہ عنہ دونوں کی ایک ہی دن وفات ہوئی، پس علم نہ ہوسکا کہ پہلے کس کی وفات ہوئی، نہ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا ان کی وارث بنیں اور نہ زید رضی اللہ عنہ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے وارث بنے اور اہل صفین ایک دوسرے کے وارث نہ بنائے گئے اور اہل حرہ ایک دوسرے کے وارث نہ بنائے گئے۔