کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس شخص کی موت پوشیدہ رہی (جس کے مرنے کا علم نہ ہو سکا) اس کی وراثت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: أَمَرَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ قُتِلَ أَهْلُ الْيَمَامَةِ " أَنْ يُوَرِّثَ الْأَحْيَاءَ مِنَ الْأَمْوَاتِ، وَلَا يُوَرِّثَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا جب اہل یمامہ شہید ہوئے کہ فوت شدہ کے زندوں کو وارث بنایا جائے اور ان فوت شدہ میں سے ایک دوسرے کو وارث نہ بناؤ۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: أَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيَالِيَ طَاعُونِ عَمْوَاسٍ قَالَ: " كَانَتِ الْقَبِيلَةُ تَمُوتُ بِأَسْرِهَا فَيَرِثُهُمْ قَوْمٌ آخَرُونَ " قَالَ: " فَأَمَرَنِي أَنْ أُوَرِّثَ الْأَحْيَاءَ مِنَ الْأَمْوَاتِ، وَلَا أُوَرِّثَ الْأَمْوَاتَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ وَرَّثَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ مِنْ تِلَادِ أَمْوَالِهِمْ، وَفِي رِوَايَةٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَرِّثْ هَؤُلَاءِ، فَوَرَّثَهُمْ مِنْ تِلَادِ أَمْوَالِهِمْ وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ عُمَرَ وَرَّثَ أَهْلَ طَاعُونِ عَمْوَاسٍ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا كَانَتْ يَدُ أَحَدِهِمَا وَرِجْلُهُ عَلَى الْآخَرِ وَرَّثَ الْأَعْلَى مِنَ الْأَسْفَلِ وَلَمْ يُوَرِّثِ الْأَسْفَلَ مِنَ الْأَعْلَى وَهَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ مُنْقَطِعَتَانِ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عُمَرَ، وَهُوَ أَيْضًا مُنْقَطِعٌ، فَمَا رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ أَشْبَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے طاعونِ عمواس میں حکم دیا جب کہ ایک قبیلہ ہلاک ہو گیا تھا اور ان کا وارث ایک دوسری قوم کو بنایا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ میں فوت شدہ کا وارث ان کے زندہ لوگوں کو بناؤں اور فوت شدہ لوگوں کو ایک دوسرے کا وارث نہ بناؤں۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے بعض کو بعض کے موروثی مال کا وارث بنایا اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا ان کو وارث بنا دو، پس انہوں نے ان کو موروثی مالوں کا وارث بنا دیا۔ قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے طاعونِ عمواس والوں کا وارث بعض کو بنایا، جب ایک کا ہاتھ اور پاؤں دوسرے پر تھا تو اعلیٰ کو نچلے پر فوقیت دے کر وارث بنایا اور نچلے کو بلند پر وارث نہیں بنایا۔
یہ دونوں روایتیں منقطع ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے: قتادہ سے، وہ رجاء بن حیوہ سے، وہ قبیصہ بن ذؤیب سے، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے، اور یہ بھی منقطع ہے۔ پس جو ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہی زیادہ درست ہے، واللہ اعلم۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے بعض کو بعض کے موروثی مال کا وارث بنایا اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا ان کو وارث بنا دو، پس انہوں نے ان کو موروثی مالوں کا وارث بنا دیا۔ قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے طاعونِ عمواس والوں کا وارث بعض کو بنایا، جب ایک کا ہاتھ اور پاؤں دوسرے پر تھا تو اعلیٰ کو نچلے پر فوقیت دے کر وارث بنایا اور نچلے کو بلند پر وارث نہیں بنایا۔
یہ دونوں روایتیں منقطع ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے: قتادہ سے، وہ رجاء بن حیوہ سے، وہ قبیصہ بن ذؤیب سے، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے، اور یہ بھی منقطع ہے۔ پس جو ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہی زیادہ درست ہے، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْمٍ مُتَوَارِثِينَ هَلَكُوا فِي هَدْمٍ أَوْ غَرَقٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْمُتَأَلَّفِ، فَلَمْ يُدْرَ أَيُّهُمْ مَاتَ قَبْلُ، قَالَ: " لَا يَتَوَارَثُونَ ".
حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن زید اپنے والد زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایسی قوم کے بارے میں فرمایا جو ایک دوسرے کے وارث بننے والے تھے، لیکن غرق ہو کر فوت ہو گئے یا کسی اور وجہ سے تلف ہو گئے، پس علم نہ ہوا کہ ان میں سے کون پہلے فوت ہوا، وہ ایک دوسرے کے وارث نہ بنیں گے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " كُلُّ قَوْمٍ مُتَوَارِثِينَ مَاتُوا فِي هَدْمٍ أَوْ غَرَقٍ أَوْ حَرِيقٍ أَوْ غَيْرِهِ، فَعُمِّيَ مَوْتُ ⦗٣٦٥⦘ بَعْضِهِمْ قَبْلَ بَعْضٍ، فَإِنَّهُمْ لَا يَتَوَارَثُونَ وَلَا يُحْجَبُونَ " وَعَلَى ذَلِكَ كَانَ قَوْلُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَقَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی الزناد رحمہ اللہ فقہاء اہل مدینہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کہتے تھے: ہر ایسی قوم جو ایک دوسرے کا وارث بننے والی تھی، وہ فوت ہوجائیں، کوئی چیز گرنے سے یا غرق ہو کر یا جل کر یا کسی بھی وجہ سے موت آجائے، اور یہ معلوم نہ ہو سکے کہ کس کی موت دوسرے سے پہلے ہوئی، تو وہ نہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے اور نہ حاجب (روکنے والے) اور یہی قول زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہے اور اسی کے مطابق عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فیصلہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ، ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ وَابْنَهَا زَيْدًا " وَقَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، وَالْتَقَتِ الصَّائِحَتَانِ فَلَمْ يُدْرَ أَيُّهُمَا هَلَكَ قَبْلُ، فَلَمْ تَرِثْهُ وَلَمْ يَرِثْهَا، وَأَنَّ أَهْلَ صِفِّينَ لَمْ يَتَوَارَثُوا، وَأَنَّ أَهْلَ الْحَرَّةِ لَمْ يَتَوَارَثُوا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹے زید رضی اللہ عنہ دونوں کی ایک ہی دن وفات ہوئی، پس علم نہ ہوسکا کہ پہلے کس کی وفات ہوئی، نہ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا ان کی وارث بنیں اور نہ زید رضی اللہ عنہ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے وارث بنے اور اہل صفین ایک دوسرے کے وارث نہ بنائے گئے اور اہل حرہ ایک دوسرے کے وارث نہ بنائے گئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ " أَنَّ أَهْلَ الْحَرَّةِ حِينَ أُصِيبُوا كَانَ الْقَضَاءُ فِيهِمْ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ أَبْنَائِهِمْ نَاسٌ كَثِيرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوالزناد فرماتے ہیں: مجھے ثقہ نے خبر دی کہ اہل حرہ جب تکلیف دیے گئے تو ان کا فیصلہ کرنے والے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے اور لوگوں میں اس دن نبی ﷺ کے اصحاب اور ان کی اولادیں بھی تھیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " وَرَّثَ قَتْلَى الْجَمَلِ، فَوَرَّثَ وَرَثَتَهُمُ الْأَحْيَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
عمارہ بن حزن اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگِ جمل میں قتل ہونے والوں کے زندوں کو ان کا وارث بنایا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَزْنِ بْنِ بَشِيرٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا " وَرَّثَ رَجُلًا وَابْنَهُ، أَوْ أَخَوَيْنِ، أُصِيبَا بِصِفِّينَ، لَا يُدْرَى أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلَ الْآخَرِ، فَوَرَّثَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " كَذَا قَالَ، وَنَحْنُ إِنَّمَا نَأْخُذُ بِالرِّوَايَةِ الْأُولَى.
حافظ ثناء اللہ
حزن بن بشیر خثعمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی اور اس کے بیٹے کو، یا دو بھائیوں کو، جو صفین میں مارے گئے تھے اور یہ معلوم نہ تھا کہ دونوں میں سے پہلے کون فوت ہوا، وارث ٹھہرایا، پس بعض کو بعض کا وارث بنا دیا۔ [ضعیف]
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ، " أَنَّهُ لَمْ يَتَوَارَثْ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الْجَمَلِ وَيَوْمَ صِفِّينَ وَيَوْمَ الْحَرَّةِ، ثُمَّ كَانَ يَوْمُ قُدَيْدٍ فَلَمْ يَتَوَارَثْ أَحَدٌ مِمَّنْ قُتِلَ مِنْهُمْ مِنْ صَاحِبِهِ شَيْئًا، إِلَّا مَنْ عُلِمَ أَنَّهُ قُتِلَ قَبْلَ صَاحِبِهِ " قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا، وَلَا شَكَّ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يُوَرَّثُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَقَوْلُ الْجَمَاعَةِ أَوْلَى.
حافظ ثناء اللہ
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رحمہ اللہ اپنے علماء سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے جمل، صفین اور حرہ کے دن مارے جانے والوں کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا، پھر قدید کے دن بھی کسی کو وارث نہ بنایا گیا جو قتل ہوا اس کا مگر یہ جان کر کہ کون پہلے فوت ہوا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اس معاملہ میں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں، اور نہ ہمارے شہر کے اہلِ علم میں سے کسی کو اس میں شک ہے، اور ہمارے امام احمد رحمہ اللہ ایاس بن عبد المزنی سے نقل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض کو بعض کا وارث بنایا جائے گا، لیکن جماعت کا قول زیادہ بہتر ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اس معاملہ میں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں، اور نہ ہمارے شہر کے اہلِ علم میں سے کسی کو اس میں شک ہے، اور ہمارے امام احمد رحمہ اللہ ایاس بن عبد المزنی سے نقل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض کو بعض کا وارث بنایا جائے گا، لیکن جماعت کا قول زیادہ بہتر ہے۔