السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث من عمي موته باب: جس شخص کی موت پوشیدہ رہی (جس کے مرنے کا علم نہ ہو سکا) اس کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12255
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ " أَنَّ أَهْلَ الْحَرَّةِ حِينَ أُصِيبُوا كَانَ الْقَضَاءُ فِيهِمْ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ أَبْنَائِهِمْ نَاسٌ كَثِيرٌ ".حافظ ثناء اللہ
ابوالزناد فرماتے ہیں: مجھے ثقہ نے خبر دی کہ اہل حرہ جب تکلیف دیے گئے تو ان کا فیصلہ کرنے والے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے اور لوگوں میں اس دن نبی ﷺ کے اصحاب اور ان کی اولادیں بھی تھیں۔