السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث من عمي موته باب: جس شخص کی موت پوشیدہ رہی (جس کے مرنے کا علم نہ ہو سکا) اس کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12253
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " كُلُّ قَوْمٍ مُتَوَارِثِينَ مَاتُوا فِي هَدْمٍ أَوْ غَرَقٍ أَوْ حَرِيقٍ أَوْ غَيْرِهِ، فَعُمِّيَ مَوْتُ ⦗٣٦٥⦘ بَعْضِهِمْ قَبْلَ بَعْضٍ، فَإِنَّهُمْ لَا يَتَوَارَثُونَ وَلَا يُحْجَبُونَ " وَعَلَى ذَلِكَ كَانَ قَوْلُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَقَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ.حافظ ثناء اللہ
ابوالزناد رحمہ اللہ فقہاء اہل مدینہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کہتے تھے: ہر ایسی قوم جو ایک دوسرے کا وارث بننے والی تھی، وہ فوت ہوجائیں، کوئی چیز گرنے سے یا غرق ہو کر یا جل کر یا کسی بھی وجہ سے موت آجائے، ایک دوسرے سے پہلے وہ نہ وارث بنیں گے اور نہ حاجب (روکنے والے) اور یہی قول زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہے اور اسی کے مطابق عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فیصلہ کیا۔