السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث من عمي موته باب: جس شخص کی موت پوشیدہ رہی (جس کے مرنے کا علم نہ ہو سکا) اس کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12252
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْمٍ مُتَوَارِثِينَ هَلَكُوا فِي هَدْمٍ أَوْ غَرَقٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْمُتَأَلَّفِ، فَلَمْ يُدْرَ أَيُّهُمْ مَاتَ قَبْلُ، قَالَ: " لَا يَتَوَارَثُونَ ".حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن زید اپنے والد زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایسی قوم کے بارے میں فرمایا جو ایک دوسرے کے وارث بننے والے تھے، لیکن غرق ہو کر فوت ہو گئے یا کسی اور وجہ سے تلف ہو گئے، پس علم نہ ہوا کہ ان میں سے کون پہلے فوت ہوا، وہ ایک دوسرے کے وارث نہ بنیں گے۔