السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث من عمي موته باب: جس شخص کی موت پوشیدہ رہی (جس کے مرنے کا علم نہ ہو سکا) اس کی وراثت کا بیان
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: أَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيَالِيَ طَاعُونِ عَمْوَاسٍ قَالَ: " كَانَتِ الْقَبِيلَةُ تَمُوتُ بِأَسْرِهَا فَيَرِثُهُمْ قَوْمٌ آخَرُونَ " قَالَ: " فَأَمَرَنِي أَنْ أُوَرِّثَ الْأَحْيَاءَ مِنَ الْأَمْوَاتِ، وَلَا أُوَرِّثَ الْأَمْوَاتَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ وَرَّثَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ مِنْ تِلَادِ أَمْوَالِهِمْ، وَفِي رِوَايَةٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَرِّثْ هَؤُلَاءِ، فَوَرَّثَهُمْ مِنْ تِلَادِ أَمْوَالِهِمْ وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ عُمَرَ وَرَّثَ أَهْلَ طَاعُونِ عَمْوَاسٍ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا كَانَتْ يَدُ أَحَدِهِمَا وَرِجْلُهُ عَلَى الْآخَرِ وَرَّثَ الْأَعْلَى مِنَ الْأَسْفَلِ وَلَمْ يُوَرِّثِ الْأَسْفَلَ مِنَ الْأَعْلَى وَهَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ مُنْقَطِعَتَانِ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عُمَرَ، وَهُوَ أَيْضًا مُنْقَطِعٌ، فَمَا رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ أَشْبَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے طاعونِ عمواس میں حکم دیا جب کہ ایک قبیلہ ہلاک ہو گیا تھا اور ان کا وارث ایک دوسری قوم کو بنایا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ میں فوت شدہ کا وارث ان کے زندہ لوگوں کو بناؤں اور فوت شدہ لوگوں کو ایک دوسرے کا وارث نہ بناؤں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے بعض کو بعض کے موروثی مال کا وارث بنایا اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا ان کو وارث بنا دو، پس انہوں نے ان کو موروثی مالوں کا وارث بنا دیا۔ قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے طاعونِ عمواس والوں کا وارث بعض کو بنایا، جب ایک کا ہاتھ اور پاؤں دوسرے پر تھا تو اعلیٰ کو نچلے پر فوقیت دے کر وارث بنایا اور نچلے کو بلند پر وارث نہیں بنایا۔