السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: ما يجوز له أخذه وما لا يجوز مما يجده باب: ملنے والی چیزوں میں سے جن کا اٹھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں ان کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالَ: " مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، لَا يَأْكُلُهَا الذِّئْبُ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، فَدَعْهَا مَكَانَهَا حَتَّى يَأْتِيَ بَاغِيهَا "، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ، قَالَ: " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، اجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا "، قَالَ: اللُّقَطَةُ يَجِدُهَا؟ قَالَ: " مَا كَانَ فِي الْعَامِرَةِ وَالسَّبِيلِ الْغَامِرَةِ فَعَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا يُوجَدُ فِي الْقَرْيَةِ الْخَرَابِ الْعَادِيِّ؟ قَالَ: " فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَبِمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ: فَكَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " طَعَامٌ مَأْكُولٌ، لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، احْبِسْ عَلَى أَخِيكَ ضَالَّتَهُ "، وَقَدْ مَضَى بِإِسْنَادِهِ فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ.حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے مزینہ کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے سنا، اس نے رسول اللہ ﷺ سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا اور میں سن رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ اس کا گھر اور سیراب کرنے کی چیز ہے، اسے بھیڑیا نہیں کھا سکتا، وہ پانی پی لیتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے، اسے اس کی جگہ پر چھوڑ دو یہاں تک کہ اس کو تلاش کرنے والا آ جائے۔“ اس نے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے، اس کو پکڑ لو یہاں تک کہ اس کو تلاش کرنے والا آ جائے۔“ اس نے کہا: جو گری پڑی چیز ہم پا لیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو آبادی میں ہو یا آباد راستے میں اسے ایک سال تک متعارف کراؤ، اگر اسے تلاش کرنے والا آ جائے تو اسے دے دو ورنہ وہ تیرے لیے ہے۔“ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جو کسی غیر آباد جگہ سے ملے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں اور «الرِّكَازِ» ”رکاز“ میں «الْخُمُسُ» ”خمس“ ہے۔“ ایک روایت میں ہے کہ اس نے کہا: گم شدہ بکری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھانا ہے جو تیرے یا تیرے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے ہے؟ اسے روک لو اپنے بھائی کے لیے جس نے اسے گم کیا ہے۔“