السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: ما يجوز له أخذه وما لا يجوز مما يجده باب: ملنے والی چیزوں میں سے جن کا اٹھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 12067
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، وَيَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قِشْمَرْدُ، أنبأ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ، فَقَالَ: " اعْرِفْ وِكَاءهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاسْتَنْفِقْهَا، وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ "، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، ⦗٣١٤⦘ فَقَالَ: " مَا لَكَ وَلَهَا؟ دَعْهَا؛ فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا "، وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ، فَقَالَ: " خُذْهَا؛ فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے گم شدہ سونے اور چاندی کے بارے میں پوچھا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر نہ پہچانی جائے تو اسے اپنے خرچہ میں شامل کر لے اور وہ تیرے پاس امانت ہو گی۔ اگر اس کا مالک کسی بھی وقت آجائے تو اسے دے دینا“۔ اس نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس میں کیا ہے! پس اسے چھوڑ دو، اس کے ساتھ اس کا کھر اور سیراب کرنا ہے، وہ پانی پر وارد ہو سکتا ہے اور درختوں کے پتے کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک پا لے“۔