السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: ما يجوز له أخذه وما لا يجوز مما يجده باب: ملنے والی چیزوں میں سے جن کا اٹھانا جائز ہے اور جن کا جائز نہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 12069
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ، خَالُ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْبَوَازِيجِ بِالسَّوَادِ، فَرَاحَتِ الْبَقَرُ، فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْبَقَرَةُ؟ قَالُوا: بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ، فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت منذر بن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ بوازیج مقام پر ایک لشکر میں تھا، ایک گائے آئی۔ انہوں نے اس نئی گائے کو دیکھا اور کہا: یہ گائے کس کی ہے؟ انہوں نے (لشکر والوں) نے جواب دیا: یہ گائے ہماری گائے کے ساتھ مل گئی ہے، آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے نکال دو۔ وہ نکال دی گئی یہاں تک کہ وہ چھپ گئی۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”گمشدہ چیز کو گمراہ شخص ہی پناہ دیتا ہے۔“