السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: اللقطة يأكلها الغني والفقير إذا لم تعترف بعد تعريف سنة باب: مالدار اور فقیر کا لقطہ کو استعمال کر لینا جب ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد اسے پہچانا نہ جا سکے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي رُؤَاسٍ وَجَدَ صُرَّةً فَأَتَى بِهَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا دَرَاهِمَ، وَقَدْ عَرَّفْتُهَا وَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَجَعَلْتُ أَشْتَهِي أَنْ لَا يَجِيءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، قَالَ: " تَصَدَّقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَرَضِيَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ، وَإِنْ لَمْ يَرْضَ غَرِمْتَهَا وَكَانَ لَكَ الْأَجْرُ " عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ غَيْرُ قَوِيٍّ وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا جَوَازَ الْأَكْلِ، ⦗٣١٢⦘ وَرُوِّينَاهُ بِأَسَانِيدَ صِحَاحٍ مَوْصُولَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّابِتَةُ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بنی رواس کے ایک آدمی کو ایک تھیلی ملی، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھیلی لے کر آیا، اس نے کہا: ”میں نے اس میں رقم پائی ہے اور میں نے اس کو متعارف بھی کروایا ہے، لیکن کسی نے اسے پہچانا نہیں ہے اور میں یہ چاہنے لگا کہ کوئی اسے پہچاننے والا نہ آئے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو، اگر اس کا مالک آ جائے اور وہ صدقہ پر راضی ہو تو اس کے لیے اجر ہو گا، ورنہ تو اسے (رقم) دے دینا اور تجھے اجر مل جائے گا۔“
عاصم بن ضمرہ قوی نہیں ہیں۔ اور ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً (گری پڑی چیز) کھانے کا جواز روایت کیا ہے، اور اسے صحیح متصل سندوں کے ساتھ نبی ﷺ سے روایت کیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی ثابت شدہ سنت ہی پیروی کے زیادہ لائق ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔