حدیث نمبر: 12062
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي رُؤَاسٍ وَجَدَ صُرَّةً فَأَتَى بِهَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا دَرَاهِمَ، وَقَدْ عَرَّفْتُهَا وَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَجَعَلْتُ أَشْتَهِي أَنْ لَا يَجِيءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، قَالَ: " تَصَدَّقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَرَضِيَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ، وَإِنْ لَمْ يَرْضَ غَرِمْتَهَا وَكَانَ لَكَ الْأَجْرُ " عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ غَيْرُ قَوِيٍّ وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا جَوَازَ الْأَكْلِ، ⦗٣١٢⦘ وَرُوِّينَاهُ بِأَسَانِيدَ صِحَاحٍ مَوْصُولَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّابِتَةُ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بنی رواس کے ایک آدمی کو ایک تھیلی ملی، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھیلی لے کر آیا، اس نے کہا: ”میں نے اس میں رقم پائی ہے اور میں نے اس کو متعارف بھی کروایا ہے، لیکن کسی نے اسے پہچانا نہیں ہے اور میرے خیال میں کوئی بھی اسے پہچاننے والا نہیں ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو، اگر اس کا مالک آ جائے اور وہ صدقہ پر راضی ہو تو اس کے لیے اجر ہو گا، ورنہ تو اسے (رقم) دے دینا اور تجھے اجر مل جائے گا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12062
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»