السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: اللقطة يأكلها الغني والفقير إذا لم تعترف بعد تعريف سنة باب: مالدار اور فقیر کا لقطہ کو استعمال کر لینا جب ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد اسے پہچانا نہ جا سکے
حدیث نمبر: 12063
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ لُقَطَةً فَجَاءَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ: إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً، فَمَاذَا تَرَى؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: " عَرِّفْهَا "، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: " زِدْ "، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: " لَا آمُرُكَ أَنْ تَأَكُلَهَا، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا " زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: ابْنُ عُمَرَ لَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ سَمِعَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللُّقَطَةِ، وَلَوْ لَمْ نَسْمَعْهُ انْبَغَى أَنْ نَقُولَ: لَا يَأْكُلُهَا، كَمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو کوئی گری پڑی چیز ملی، وہ لے کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے کہا: مجھے یہ چیز ملی ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے کہا: اس کا اعلان کر دو۔ اس نے کہا: میں نے ایسا کیا ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اور زیادہ کر۔ اس نے کہا: میں نے کیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تجھے یہ حکم نہیں دیتا کہ اسے کھالے، اگر تو چاہتا تو نہ پکڑتا۔