السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: اللقطة يأكلها الغني والفقير إذا لم تعترف بعد تعريف سنة باب: مالدار اور فقیر کا لقطہ کو استعمال کر لینا جب ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد اسے پہچانا نہ جا سکے
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ هُزَيْلًا يَقُولُ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَتَاهُ رَجُلٌ بِصُرَّةٍ مَخْتُومَةٍ، فَقَالَ: قَدْ عَرَّفْتُهَا وَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، قَالَ: " اسْتَمْتِعْ بِهَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَكَذَا السُّنَّةُ الثَّابِتَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَوْا حَدِيثًا عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ اشْتَرَى جَارِيَةً، فَذَهَبَ صَاحِبُهَا فَتَصَدَّقَ بِثَمَنِهَا وَقَالَ: اللهُمَّ عَنْ صَاحِبِهَا، فَإِنْ كَرِهَ فَلِي وَعَلَيَّ الْغُرْمُ، ثُمَّ قَالَ: وَهَكَذَا يُفْعَلُ بِاللُّقَطَةِ، فَخَالَفُوا السُّنَّةَ فِي اللُّقَطَةِ الَّتِي لَا حُجَّةَ مَعَهَا، وَخَالَفُوا حَدِيثَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ الَّذِي يُوَافِقُ السُّنَّةَ، وَهُوَ عِنْدَهُمْ ثَابِتٌ، وَاحْتَجُّوا بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَهُمْ يُخَالِفُونَهُ فِيمَا هُوَ فِيهِ بِعَيْنِهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ قَوْلِهِ مَا يُوَافِقُ قَوْلَ الْعِرَاقِيِّينَ.ہذیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے پاس ایک آدمی ایک بند تھیلی لے کر آیا اور کہا: ”میں نے اس کا اعلان کیا ہے لیکن کسی نے اسے نہیں پہچانا۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس سے فائدہ اٹھا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی سنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے اور انہوں نے عامر رحمہ اللہ سے، انہوں نے اپنے والد عبداللہ رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لونڈی خریدی، اس کا مالک گیا اور اس کی قیمت صدقہ کردی اور کہا: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ رَبِّهَا» ”اے اللہ! یہ اس کے مالک کی طرف سے ہے۔ اگر اس نے لونڈی کو ناپسند کیا تو میری ہے اور مجھ پر اس کی قیمت ہے۔“ پھر کہا: ”اسی طرح گری پڑی چیز کا حکم ہے۔“ انہوں نے گری ہوئی چیز کے بارے میں سنت کی مخالفت کی، ان کے پاس دلیل نہ تھی اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مخالفت کی جو سنت کے موافق ہے اور وہ ان کے ہاں ثابت ہے اور انہوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے اور دوسرے اس کی مخالفت کرتے ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عراقیوں کے قول کے موافق روایت کیا گیا ہے۔