السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
باب: ما يستدل به على أن أمره بالتسوية بينهم في العطية على الاختيار دون الإيجاب باب: اس بات پر استدلال کہ آپ ﷺ کا اولاد کے درمیان عطیے میں برابری کرنے کا حکم اختیار پر مبنی ہے نہ کہ وجوب پر
حدیث نمبر: 12007
قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَقْطَعُ وَلَدَهُ دُونَ بَعْضٍ، وَقَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ ذِي مَالٍ أَحَقُّ بِمَالِهِ " قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَصْنَعُ بِهِ مَا شَاءَ.حافظ ثناء اللہ
عمر بن منکدر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مال والا اپنے مال کا زیادہ حق دار ہے“، ابن وہب رحمہ اللہ نے کہا: وہ جو چاہے اس سے کرے۔