السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
باب: ما يستدل به على أن أمره بالتسوية بينهم في العطية على الاختيار دون الإيجاب باب: اس بات پر استدلال کہ آپ ﷺ کا اولاد کے درمیان عطیے میں برابری کرنے کا حکم اختیار پر مبنی ہے نہ کہ وجوب پر
حدیث نمبر: 12006
قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَابْنُ عُمَرَ حَتَّى أَتَوْا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَاوَمُوهُ بِأَرْضٍ لَهُ فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ أَرْضًا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " فَإِنَّ هَذِهِ الْأَرْضَ لِابْنِي وَاقِدٍ؛ فَإِنَّهُ مِسْكِينٌ " نَحَلَهُ إِيَّاهَا دُونَ وَلَدِهِ.حافظ ثناء اللہ
قاسم بن عبدالرحمن انصاری رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما انصار کے ایک آدمی کے پاس گئے، انہوں نے اس سے زمین کا سودا کیا اور اس سے خرید لیا، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے زمین خریدی ہے اور اس کو صدقہ کیا ہے“، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”یہ زمین میرے بیٹے واقد کی ہے، وہ مسکین ہے، آپ نے اپنی دوسری اولاد کے علاوہ اس کو عطیہ دیا۔“