السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما لا نفس له سائلة إذا مات في الماء القليل باب: اس جانور کا بیان جس میں بہنے والا خون نہ ہو اگر وہ تھوڑے پانی میں مر جائے
حدیث نمبر: 1193
وَرَوَى بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا سَلْمَانُ كُلُّ طَعَامٍ وَشَرَابٍ وَقَعَتْ فِيهِ دَابَّةٌ لَيْسَ لَهَا دَمٌ فَمَاتَتْ فَهُوَ الْحَلَالُ أَكْلُهُ وَشُرْبُهُ وَوُضُوءُهُ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ثنا بَقِيَّةُ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: الْأَحَادِيثُ الَّتِي يَرْوِيهَا سَعِيدٌ الزُّبَيْدِيُّ عَامَّتُهَا لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ ثِقَةٍ، عَنْ سَعِيدٍ الزُّبَيْدِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے سلمان! ہر کھانا اور پانی استعمال کرو، جس میں ایسا جانور گر کر مر جائے جس میں خون نہ ہو تو اس کا کھانا، پینا اور وضو حلال ہے۔“ (ب) بقیہ نے پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے۔
(ج) ابواحمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ تمام احادیث جنھیں سعید زبیدی بیان کرتا ہے عموماً غیر محفوظ ہیں۔ (د) الحافظ علی بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعید زبیدی سے صرف بقیہ نقل کرتا ہے حالانکہ وہ ضعیف ہے۔