کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس جانور کا بیان جس میں بہنے والا خون نہ ہو اگر وہ تھوڑے پانی میں مر جائے
حدیث نمبر: 1190
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَقَطَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ، ثُمَّ لِيَنْزِعْهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءٌ وَفِي الْآخَرِ شِفَاءٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبید بن حنین رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی کے پینے (کے برتن) میں مکھی گر جائے تو اس ساری کو ڈبو دو، پھر اس کو نکال لو، اس لیے اس کے دو پروں میں سے ایک میں بیماری ہے اور دوسرے میں شفا ہے۔“
حدیث نمبر: 1191
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِالْجَنَاحِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ، ثُمَّ لِيَنْزِعْهُ " وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اس کے دو پروں میں سے ایک میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے اور وہ اس کے ذریعے سے بچتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے، لہٰذا ساری کو ڈبو کر نکال دو۔“
حدیث نمبر: 1192
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الْقَارِظِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِمِنًى فَقَدَّمَ إِلِيَّ زُبْدًا وَأَكَلْتُهُ فَوَقَعَ ذُبَابٌ فِي الزُّبْدِ فَجَعَلَ يَمْقُلُهُ بِخِنْصَرِهِ فَقُلْتُ: يَا خَالُ مَا تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ سُمًّا وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً وَإِنَّهُ يُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ وَيُقَدِّمُ السُّمَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن خالد قارظی فرماتے ہیں کہ میں منیٰ میں ابوسلمہ بن عبد الرحمن کے پاس آیا، انہوں نے مجھے مکھن اور پنیر پیش کیا، مکھی مکھن میں گر گئی تو وہ چھوٹی انگلی سے اس کو ڈبو رہے تھے۔ میں نے کہا: خالو جان! آپ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی کے کھانے میں مکھی گر جائے تو اس کو ڈبو لے، اس لیے اس کے دو پروں میں سے ایک میں زہر ہے اور دوسرے میں شفا اور وہ شفا والے پر کو اوپر رکھتی ہے اور زہر والے پر پہلے ڈالتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1193
وَرَوَى بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا سَلْمَانُ كُلُّ طَعَامٍ وَشَرَابٍ وَقَعَتْ فِيهِ دَابَّةٌ لَيْسَ لَهَا دَمٌ فَمَاتَتْ فَهُوَ الْحَلَالُ أَكْلُهُ وَشُرْبُهُ وَوُضُوءُهُ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ثنا بَقِيَّةُ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: الْأَحَادِيثُ الَّتِي يَرْوِيهَا سَعِيدٌ الزُّبَيْدِيُّ عَامَّتُهَا لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ ثِقَةٍ، عَنْ سَعِيدٍ الزُّبَيْدِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے سلمان! ہر کھانا اور پانی استعمال کرو، جس میں ایسا جانور گر کر مر جائے جس میں خون نہ ہو تو اس کا کھانا، پینا اور وضو حلال ہے۔“ (ب) بقیہ نے پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے۔
(ج) ابواحمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ تمام احادیث جنھیں سعید زبیدی بیان کرتا ہے عموماً غیر محفوظ ہیں۔ (د) الحافظ علی بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعید زبیدی سے صرف بقیہ نقل کرتا ہے حالانکہ وہ ضعیف ہے۔
(ج) ابواحمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ تمام احادیث جنھیں سعید زبیدی بیان کرتا ہے عموماً غیر محفوظ ہیں۔ (د) الحافظ علی بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعید زبیدی سے صرف بقیہ نقل کرتا ہے حالانکہ وہ ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 1194
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " كُلُّ نَفْسٍ سَائِلَةٌ لَا يُتَوَضَّأُ مِنْهَا وَلَكِنْ رُخِّصَ فِي الْخُنْفُسَاءِ وَالْعَقْرَبِ وَالْجَرَادِ وَالْجَدْجَدِ إِذَا وَقَعْنَ فِي الرِّكَاءِ فَلَا بَأْسَ بِهِ " ⦗٣٨٤⦘ قَالَ شُعْبَةُ: أَظُنُّهُ قَدْ ذَكَرَ الْوَزَغَةَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَا مَعْنَاهُ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَعَطَاءٍ وَعِكْرِمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہر بہنے والے خون (والے جانور کے گرنے) سے وضو نہیں کیا جائے گا، لیکن گبریلا، بچھو، مکڑی اور گرگٹ جب برتن میں گر جائیں تو (اس کے استعمال میں) کوئی حرج نہیں۔