السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما لا نفس له سائلة إذا مات في الماء القليل باب: اس جانور کا بیان جس میں بہنے والا خون نہ ہو اگر وہ تھوڑے پانی میں مر جائے
حدیث نمبر: 1192
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الْقَارِظِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِمِنًى فَقَدَّمَ إِلِيَّ زُبْدًا وَأَكَلْتُهُ فَوَقَعَ ذُبَابٌ فِي الزُّبْدِ فَجَعَلَ يَمْقُلُهُ بِخِنْصَرِهِ فَقُلْتُ: يَا خَالُ مَا تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ سُمًّا وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً وَإِنَّهُ يُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ وَيُقَدِّمُ السُّمَّ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن خالد قارظی فرماتے ہیں کہ میں منیٰ میں ابوسلمہ بن عبد الرحمن کے پاس آیا، انہوں نے مجھے مکھن اور پنیر پیش کیا، مکھی مکھن میں گر گئی تو وہ چھوٹی انگلی سے اس کو ڈبو رہے تھے۔ میں نے کہا: خالو جان! آپ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی کے کھانے میں مکھی گر جائے تو اس کو ڈبو لے، اس لیے اس کے دو پروں میں سے ایک میں زہر ہے اور دوسرے میں شفا اور وہ شفا والے پر کو اوپر رکھتی ہے اور زہر والے پر پہلے ڈالتی ہے۔“