السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: النخل يغرس في موات، أو يكون لرجل نخلة بين ظهراني نخيل لغيره فاختلفا في حريمها باب: کھجور کا درخت بنجر زمین میں لگایا جائے، یا کسی شخص کا کھجور کا درخت کسی دوسرے کے کھجوروں کے درمیان ہو اور وہ دونوں اس کے حریم (ارد گرد کی جگہ) کے بارے میں اختلاف کریں
حدیث نمبر: 11866
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى فِي النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ لِرَجُلٍ فِي نَخْلٍ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ، فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ لِأُولَئِكَ مِنَ الْأَرْضِ مَبْلَغَ جَرِيدِهَا " وَفِيمَا رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ بِإِسْنَادِهِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرِيمِ النَّخْلِ طُولَ عَسِيبِهَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک باغ میں، دو باغوں میں اور تین باغوں میں فیصلہ کیا ایک آدمی کے لیے تو وہ (لوگ) اس کے حقوق میں اختلاف کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ”ہر کھجور سے اس کی ٹہنی کے پھل کے برابر زمین اس کے لیے ہو گی۔“
(ب) مراسیلِ ابو داؤد میں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”نخلستان کی دیوار میں ان کی ٹہنیوں کی لمبائی کے مطابق“ فیصلہ کیا۔