السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ترتيب سقي الزرع والأشجار من الأودية المباحة باب: مباح وادیوں سے کھیتوں اور درختوں کو پانی پلانے کی ترتیب کے بیان میں
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي شَراجِ الْحَرَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْهُ إِلَى جَارِكَ "، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ". فَقَالَ: وَاسْتَوْعَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ حِينَ أَحْفَظَهُ الْأَنْصَارِيُّ، وَكَانَ أَشَارَ عَلَيْهِمَا قَبْلَ ذَلِكَ بِأَمْرٍ كَانَ لَهُمَا فِيهِ سَعَةٌ، قَالَ الزُّبَيْرُ: فَمَا أَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ إِلَّا نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: ٦٥] قَالَ: فَسَمِعْتُ غَيْرَ الزُّهْرِيِّ يَقُولُ: نَظَرْتُ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ " فَكَانَ ذَلِكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ مُخْتَصَرًا.عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا ایک انصاری کے ساتھ حرہ کے نالے کے بارے میں جھگڑا ہوگیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! اپنے باغ کو پانی دو، پھر اپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دو۔“ انصاری نے کہا: ”یا رسول اللہ ﷺ! زبیر آپ ﷺ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں ناں۔“ رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! سیراب کرلو، پھر پانی کو اتنی دیر تک روکے رکھو کہ وہ منڈیروں تک چڑھ جائے، پھر ہمسائے کے لیے چھوڑ دو۔“ رسول اللہ ﷺ نے انصاری کے اعتراض کی وجہ سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو پورے حق کی تلقین کی، حالانکہ اس سے پہلے دونوں کے لیے وسعت تھی۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں خیال کرتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ﴾ [سورة النساء: 65] فرماتے ہیں: میں نے زہری رحمہ اللہ کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کی اس بات کا مطلب کہ «ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ» ”پھر پانی کو اتنی دیر تک روکے رکھو کہ وہ منڈیروں تک چڑھ جائے“ یہ تھا کہ وہ ٹخنوں تک ہوجائے۔