السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ترتيب سقي الزرع والأشجار من الأودية المباحة باب: مباح وادیوں سے کھیتوں اور درختوں کو پانی پلانے کی ترتیب کے بیان میں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ "، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: " يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ "، فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: ٦٥] إِلَى قَوْلِهِ {وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} [النساء: ٦٥] رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، كُلُّهُمْ عَنِ اللَّيْثِ.سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انصار کے آدمی نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ نامی نالے کے پانی، جس سے کھجوروں کو پانی لگاتے تھے، کے بارے میں جھگڑا کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنا جھگڑا پیش کیا۔ انصاری نے کہا: پانی آگے جانے دو، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! پہلے اپنے باغ کو پانی دو، پھر اپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دو۔“ انصاری غصہ میں آ گیا اور کہا: یا رسول اللہ ﷺ! زبیر آپ ﷺ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں ناں! رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! سیراب کر لو، پھر پانی کو اتنی دیر تک روکے رکھو کہ وہ منڈیروں تک چڑھ جائے۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا تو خیال ہے، یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ﴾ [سورة النساء: 65] ”ہرگز نہیں، تیرے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے، جب تک آپ کو وہ اپنے جھگڑوں میں حاکم تسلیم نہ کریں۔“