کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مباح وادیوں سے کھیتوں اور درختوں کو پانی پلانے کی ترتیب کے بیان میں
حدیث نمبر: 11854
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ "، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: " يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ "، فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: ٦٥] إِلَى قَوْلِهِ {وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} [النساء: ٦٥] رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، كُلُّهُمْ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انصار کے آدمی نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ نامی نالے کے پانی، جس سے کھجوروں کو پانی لگاتے تھے، کے بارے میں جھگڑا کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنا جھگڑا پیش کیا۔ انصاری نے کہا: پانی آگے جانے دو، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! پہلے اپنے باغ کو پانی دو، پھر اپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دو۔“ انصاری غصہ میں آ گیا اور کہا: یا رسول اللہ ﷺ! زبیر آپ ﷺ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں ناں! رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! سیراب کر لو، پھر پانی کو اتنی دیر تک روکے رکھو کہ وہ منڈیروں تک چڑھ جائے۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا تو خیال ہے، یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ﴾ [سورة النساء: 65] ”ہرگز نہیں، تیرے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے، جب تک آپ کو وہ اپنے جھگڑوں میں حاکم تسلیم نہ کریں۔“
حدیث نمبر: 11855
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي شَراجِ الْحَرَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْهُ إِلَى جَارِكَ "، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ". فَقَالَ: وَاسْتَوْعَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ حِينَ أَحْفَظَهُ الْأَنْصَارِيُّ، وَكَانَ أَشَارَ عَلَيْهِمَا قَبْلَ ذَلِكَ بِأَمْرٍ كَانَ لَهُمَا فِيهِ سَعَةٌ، قَالَ الزُّبَيْرُ: فَمَا أَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ إِلَّا نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: ٦٥] قَالَ: فَسَمِعْتُ غَيْرَ الزُّهْرِيِّ يَقُولُ: نَظَرْتُ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ " فَكَانَ ذَلِكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا ایک انصاری کے ساتھ حرہ کے نالے کے بارے میں جھگڑا ہوگیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! اپنے باغ کو پانی دو، پھر اپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دو۔“ انصاری نے کہا: ”یا رسول اللہ ﷺ! زبیر آپ ﷺ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں ناں۔“ رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! سیراب کرلو، پھر پانی کو اتنی دیر تک روکے رکھو کہ وہ منڈیروں تک چڑھ جائے، پھر ہمسائے کے لیے چھوڑ دو۔“ رسول اللہ ﷺ نے انصاری کے اعتراض کی وجہ سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو پورے حق کی تلقین کی، حالانکہ اس سے پہلے دونوں کے لیے وسعت تھی۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں خیال کرتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ﴾ [سورة النساء: 65] فرماتے ہیں: میں نے زہری رحمہ اللہ کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کی اس بات کا مطلب کہ «ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ» ”پھر پانی کو اتنی دیر تک روکے رکھو کہ وہ منڈیروں تک چڑھ جائے“ یہ تھا کہ وہ ٹخنوں تک ہوجائے۔
حدیث نمبر: 11856
وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِطُولِهِ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: " فَقَدَّرَتِ الْأَنْصَارُ وَالنَّاسُ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ حَتَّى يَرْجِعَ الْمَاءُ إِلَى الْجَدْرِ " كَانَ ذَلِكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فَذَكَرَهُ قَالَ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: إِخَاذٌ بِالْحَرَّةِ يَحْبِسُ الْمَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
پچھلی حدیث کی طرح ہے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: پتھریلی زمین کا لینا پانی روکنے کے لیے تھا۔
حدیث نمبر: 11857
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ أَبِيهِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ كُبَرَاءَهُمْ يَذْكُرُونَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ لَهُ سَهْمٌ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، فَخَاصَمَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَهْزُورِ السَّيْلِ الَّذِي يَقْتَسِمُونَ مَاءَهُ، فَقَضَى بَيْنَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَاءَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، لَا يَحْبِسُ الْأَعْلَى عَنِ الْأَسْفَلِ ".
حافظ ثناء اللہ
ثعلبہ بن ابی مالک نے اپنے بڑوں سے سنا کہ قریش کا ایک آدمی تھا، اس کا بنی قریظہ میں حصہ تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مہروز کے نالے کا جھگڑا لے کر آیا جس کا پانی وہ تقسیم کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کے درمیان فیصلہ کیا کہ ”پانی ٹخنوں تک پہنچ جائے تو اوپر والا نیچے والے کا پانی نہ روکے۔“
حدیث نمبر: 11858
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي السَّيْلِ الْمَهْزُورِ أَنْ يُمْسَكَ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُرْسِلُ الْأَعْلَى عَلَى الْأَسْفَلِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مہزور کے نالے کا فیصلہ کیا کہ: ”پانی یہاں تک روکے کہ ٹخنوں تک پہنچ جائے، پھر اوپر والا نیچے والے کی طرف بھیجے۔“
حدیث نمبر: 11859
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ ⦗٢٥٥⦘ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَسَدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: " إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى فِي مَشْرَبِ النَّخْلِ مِنَ السَّيْلِ أَنَّ الْأَعْلَى فَالْأَعْلَى يَشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ، وَيُتْرَكُ فِيهِ الْمَاءُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَاءُ إِلَى الْأَسْفَلِ الَّذِي يَلِيهِ، وَكَذَلِكَ حَتَّى يَنْقَضِيَ الْحَوَائِطُ " إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَادَةَ مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پینے والے نالے کا فیصلہ فرمایا کہ ”بلند پہلے ہے نیچے والے سے اور اس میں پانی ٹخنوں تک روکا جائے گا، پھر پانی نچلے کی طرف بھیجا جائے گا جو اس کے ساتھ ہے۔“ اسی طرح باغ کو پانی لگایا جائے گا۔