السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: : سواء كل موات لا مالك له أين كان باب: ہر وہ بنجر زمین جس کا کوئی مالک نہ ہو وہ برابر ہے، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔
حدیث نمبر: 11802
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ أَرْضًا ".حافظ ثناء اللہ
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو زمین الاٹ کی اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عقیق نامی جگہ الاٹ کی تو فرمایا: کہاں ہیں لینے والے؟
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عقیق مدینہ کے قریب ہی ہے۔