السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: : سواء كل موات لا مالك له أين كان باب: ہر وہ بنجر زمین جس کا کوئی مالک نہ ہو وہ برابر ہے، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔
حدیث نمبر: 11801
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَقْطَعَ النَّاسَ الدُّورَ، فَقَالَ لَهُ حَيٌّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَبْدِ بْنِ زُهْرَةَ نَكِّبْ عَنَّا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلِمَ ابْتَعَثَنِي اللهُ إِذًا؟ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ فِيهِمْ حَقُّهُ؟ ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو گھر الاٹ کیے۔ نبی ﷺ کے ایک قبیلے بنو عمید بن ذھرہ نامی نے آپ سے کہا کہ ہم سے ام عبد کے بیٹے کو دور کردو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے کس لیے بھیجا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس وقت تک امت کو پاک نہیں کرتا جب تک کمزوروں کا حق دوسروں سے لے کر ان تک پہنچا نہیں دیا جاتا۔“