السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: : سواء كل موات لا مالك له أين كان باب: ہر وہ بنجر زمین جس کا کوئی مالک نہ ہو وہ برابر ہے، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔
حدیث نمبر: 11803
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْطَعَ، وَأَنَّ عُمَرَ أَقْطَعَ النَّاسَ الْعَقِيقَ ".حافظ ثناء اللہ
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو زمین دی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی جاگیر دی اور عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عقیق نامی جگہ بطور جاگیر دی۔