السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: : سواء كل موات لا مالك له أين كان باب: ہر وہ بنجر زمین جس کا کوئی مالک نہ ہو وہ برابر ہے، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔
حدیث نمبر: 11800
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ ⦗٢٤١⦘ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، أنبأ فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ قَالَ: انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ، فَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ وَمَسَحَ رَأْسِي، وَخَطَّ لِي دَارًا بِالْمَدِينَةِ بِقَوْسٍ، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أَزِيدُكَ؟ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن حارث رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے میرے باپ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے اور میں اس وقت جوان تھا، آپ ﷺ نے میرے لیے برکت کی دعا کی اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور قوس کی شکل میں میرے لیے مدینہ میں گھر کا خط کھینچا، پھر فرمایا: ”کیا زیادہ کر دوں؟“