السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: كتابة القطائع باب: جاگیروں (اقطاع) کی تحریر لکھ کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11799
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لِي: " مَا فَعَلَ الْمَسْلُولُ؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ عِنْدِي، فَقَالَ: أَنَا وَاللهِ خَطَطْتُهُ بِيَدِي، أَقْطَعَ أَبُو بَكْرٍ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَرْضًا، فَكُنْتُ أَكْتُبُهَا، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْكِتَابَ، فَأَدْخَلَهُ فِي ثِنْيِ الْفِرَاشِ، فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: كَأَنَّكُمْ عَلَى حَاجَةٍ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَعَمْ، فَخَرَجَ، فَأَخْرَجَ أَبُو بَكْرٍ الْكِتَابَ فَأَتْمَمْتُهُ ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ کے والد فرماتے ہیں: میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے مجھ سے کہا: ”تلوار کا کیا بنا؟“ میں نے کہا: ”وہ میرے پاس ہے۔“ انہوں نے کہا: ”میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو زمین دی، میں اس کو لکھنے والا تھا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خط پکڑا اور بستر کی تہہ میں رکھ دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ”تم کو کوئی کام تھے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہاں۔“ وہ چلے گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خط نکالا اور اسے پورا کر دیا۔