السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11721
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَإِقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَاءَ ⦗٢١٩⦘ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَكَذَا؛ فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.حافظ ثناء اللہ
حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے رافع رضی اللہ عنہ سے زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگ نہر کے کنارے اور نالیوں کے سروں پر اور زمین کی پیداوار پر اسے کرایہ پر دیتے تھے۔ کبھی کوئی تلف ہو جاتی اور کوئی بچ جاتی اور لوگوں کو وہی کرایہ ملتا تھا جو بچ جاتا، اس لیے آپ ﷺ نے اس سے منع کر دیا، لیکن اگر کوئی معین چیز ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔