کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11711
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عِمْرَانَ الْقَاضِي، بِهَرَاةَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَتْ لِرِجَالٍ فُضُولُ أَرَضِينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانُوا يُؤَاجِرُونَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، فَقَالَ ⦗٢١٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهَ " لَفْظُ حَدِيثِ بِشْرٍ. وَفِي رِوَايَةِ عُبَيْدِ اللهِ: كَانَتْ لِرِجَالٍ فُضُولُ أَرَضِينَ، فَكَانُوا يَزْرَعُونَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ هِقْلٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں کے پاس زائد زمینیں تھیں اور وہ انہیں ثلث، ربع اور نصف تک اجرت پر دیتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زائد زمین ہے وہ خود کھیتی باڑی کرے یا اپنے بھائی کو دے دے۔ اگر وہ انکار کرے تو اسے یوں ہی چھوڑ دے۔“ اور عبید اللہ کی روایت کے الفاظ بھی یہی ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11711
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2341، مسلم 1536
تخریج حدیث «بخاري 2341، مسلم 1536»
حدیث نمبر: 11712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ الْأَرْضَ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ بِالْمَاذِيَانَاتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، وَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ لَمْ يَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَلْيُمْسِكْهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ثلث اور ربع پر نہر کے کنارے زمین لیتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو اسے چاہیے کہ وہ کھیتی باڑی کرے، اگر خود نہ کر سکتا ہو تو اپنے بھائی کو دے دے، اگر وہ بھی نہ لے تو اسے یوں ہی چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11712
درجۂ حدیث محدثین: مسلم 1536
تخریج حدیث «مسلم 1536»
حدیث نمبر: 11713
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَصِيبٍ مِنَ الْقُصَرَّى وَمِنْ كَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ فَلْيُحْرِثْهَا أَخَاهُ، وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مخابرہ (بٹائی) کیا کرتے تھے تو اس اناج میں حصہ لیتے تھے جو کاٹنے کے بعد نالیوں میں رہ جاتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اسے کھیتی باڑی پر لگائے یا اپنے بھائی کو کھیتی کرنے دے، ورنہ اس کو اسی طرح رہنے دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11713
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
حدیث نمبر: 11714
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَدِمَ عَلَيْهِ بَعْضُ عُمُومَتِهِ، قَالَ قَتَادَةُ: اسْمُهُ ظُهَيْرٌ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ اللهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا وَأَنْفَعُ. قَالَ الْقَوْمُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكَارِيهَا بِالثُّلُثِ، وَلَا بِالرُّبُعِ، وَلَا طَعَامٍ مُسَمًّى " رَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں محاقلہ کیا کرتے تھے۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے چچوں میں سے کوئی آئے، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان کا نام ظہیر رضی اللہ عنہ تھا، کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے ایسے کام سے منع کیا ہے جس میں ہمارے لیے نفع ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشی ہمارے لیے زیادہ نفع والی ہے۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کیا کام ہے؟ فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جس کے پاس زمین ہو، وہ اس میں کھیتی باڑی کرے یا اپنے بھائی کو کرنے دے اور ثلث، ربع اور کھانے کے بدلے کرایہ پر نہ دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11714
درجۂ حدیث محدثین: مسلم 1548
تخریج حدیث «مسلم 1548»
حدیث نمبر: 11715
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: ⦗٢١٧⦘ كَتَبَ إِلِيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ فَنُكْرِيهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ نُكْرِيهَا بِالْأَرْضِ، فَمَا شَعَرْتُ يَوْمًا إِذْ لَقِيَنِي بَعْضُ عُمُومَتِي فَقَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَنَا وَأَنْفَعُ، كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ فَنُكْرِيهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا أَوْ يُزْرِعَهَا، وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَرَادَ بِالطَّعَامِ الْمُسَمَّى مَا يَخْرُجُ مِنْ تِلْكَ الْأَرْضِ، وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ عَنْ رَافِعٍ وَكَرِهَ كِرَاءَهَا، يَعْنِي بِذَلِكَ وَمَا فِي مَعْنَاهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم زمین محاقلہ پر لیا کرتے تھے، ہم زمین کرایہ پر دیتے تھے ثلث، ربع اور معلوم کھانے کے بدلے میں اور ان دنوں سونا اور چاندی نہ تھے۔ ایک دن مجھے میرے ایک چچا ملے انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایسے کاموں سے منع کیا ہے جس میں ہمارے لیے نفع ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی خوشی ہمارے لیے زیادہ نفع مند ہے۔ ہم زمین کا محاقلہ کرتے تھے اور اس کو ثلث، ربع اور معلوم کھانے کے عوض کرایہ پر دیتے تھے، پھر آپ ﷺ نے ہمیں منع کر دیا اور زمین کے مالک کو حکم دیا کہ ”خود کھیتی باڑی کرے یا اس میں کھیتی باڑی کروائے“ اور اسے کرایہ پر دینا مکروہ قرار دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11715
درجۂ حدیث محدثین: مسلم 1517
تخریج حدیث «مسلم 1517»
حدیث نمبر: 11716
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ قَالَ: صَحِبْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ سِتَّ سِنِينَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّهُ لَقِيَهُ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، قَالَ رَافِعٌ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الْحَقُّ، قَالَ: " أَرَأَيْتَ مَحَاقِلَكُمْ، مَاذَا تَصْنَعُونَ بِهَا؟ " قُلْنَا: نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ، قَالَ " فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا أَوْ أَمْسِكُوهَا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابونجاشی فرماتے ہیں: میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کے ساتھ چھ سال رہا، انہوں نے مجھے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ایک دن وہ ان سے ملے اور کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایسے کام سے منع کیا ہے جس میں ہمارے لیے نفع ہے۔ رافع رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے کہا: جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ حق ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے جو تم «الْمُحَاقَلَةُ» کرتے ہو؟“ ہم نے کہا: ہم اجرت لیتے ہیں ربع پر اور کھجور اور جو کے وسق کے بدلے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، اس میں کھیتی باڑی کرو یا اسے چھوڑ دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11716
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو عوا نه 5144»
حدیث نمبر: 11717
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " قَالَ: قُلْتُ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ فَقَالَ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَرَافِعٌ سَمِعَ النَّهْيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَعْنَى مَا سَمِعَ، وَإِنَّمَا حَكَى رَافِعٌ نَهْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَائِهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، وَكَذَلِكَ كَانَتْ تُكْرَى.
حافظ ثناء اللہ
حنظلہ بن قیس نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے“۔ میں نے کہا: سونے اور چاندی کے بدلے؟ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: سونے اور چاندی کے بدلے کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11717
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مالك 1425»
حدیث نمبر: 11718
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا ⦗٢١٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ " فَقُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ الْحَدِيثَ الَّذِي يُذْكَرُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ؟ فَقَالَ: " أَكْثَرَ رَافِعٌ، وَلَوْ كَانَتْ لِي أَرْضٌ أَكْرَيْتُهَا " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ يَكُونُ سَالِمٌ سَمِعَ عَنْ رَافِعٍ الْخَبَرَ جُمْلَةً، فَرَأَى أَنَّهُ حَدَّثَ بِهِ عَلَى الْكِرَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَلَمْ يَرَ بِالْكِرَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بَأْسًا؛ لِأَنَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَقَدْ بَيَّنَهُ غَيْرُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ رَافِعٍ أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میں نے کہا: رافع رضی اللہ عنہ والی حدیث کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: رافع رضی اللہ عنہ اکثر اپنی طرف سے بات کر دیتے ہیں۔ اگر میری زمین ہوتی تو کرایہ پر دیتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سالم رحمہ اللہ نے رافع رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی تو خیال کیا کہ انہوں نے سونے اور چاندی کے بارے میں بیان کی ہے۔ اس لیے وہ سونے اور چاندی کے بدلے کوئی حرج نہ سمجھتے تھے اور مالک بن انس رحمہ اللہ کے علاوہ نے بھی رافع رضی اللہ عنہ سے اس بات کو واضح کیا ہے کہ ”آپ ﷺ نے زمین کو پیداوار کے بدلے کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11718
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مالك 1392»
حدیث نمبر: 11719
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَإِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا " قَالَ: فَسَأَلْتُهُ عَنْ كِرَائِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِكِرَائِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ".
حافظ ثناء اللہ
حنظلہ بن قیس نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ”پیداوار کے بدلے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا“ حنظلہ کہتے ہیں: میں نے سونے اور چاندی کے بدلے دینے کے بارے میں سوال کیا تو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11719
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مالك 2073»
حدیث نمبر: 11720
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا لَيْثٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّايَ " أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُنْبِتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ " فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: كَيْفَ هِيَ بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَا بَأْسَ بِهَا بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے چچاؤں رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں زمین کرایہ پر دیتے تھے، اس کے بدلے جو زمین کی پیداوار ہوتی تھی یا اس چیز کے بدلے جسے زمین کا مالک مستثنیٰ قرار دیتا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے اس سے منع کر دیا۔ میں نے رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: درہموں اور دیناروں کے بدلے کیسا ہے؟ تو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11720
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 11721
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَإِقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَاءَ ⦗٢١٩⦘ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَكَذَا؛ فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے رافع رضی اللہ عنہ سے زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگ نہر کے کنارے اور نالیوں کے سروں پر اور زمین کی پیداوار پر اسے کرایہ پر دیتے تھے۔ کبھی کوئی تلف ہو جاتی اور کوئی بچ جاتی اور لوگوں کو وہی کرایہ ملتا تھا جو بچ جاتا، اس لیے آپ ﷺ نے اس سے منع کر دیا، لیکن اگر کوئی معین چیز ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11721
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 11722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ: " كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا، فَكُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَّا الْوَرِقُ فَلَمْ يَنْهَنَا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم اکثر انصاری زمین کا محاقلہ کرتے تھے۔ ہم زمین کرایہ پر دیتے اس شرط پر کہ اس میں سے ہمارے لیے یہ ہوگا اور یہ ان کے لیے۔ کبھی اس کی پیداوار ہو جاتی اور کبھی نہ ہوتی تو آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔ رہا چاندی کا مسئلہ تو اس سے ہم کو منع نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11722
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 11723
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ حَنْظَلَةَ بْنَ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ: " كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مُزْدَرَعًا، وَكُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ بِالنَّاحِيَةِ مِنْهَا تُسَمَّى لِسَيِّدِ الْأَرْضِ، فَرُبَّمَا يُصَابُ ذَلِكَ وَتُصَابُ الْأَرْضُ، وَرُبَّمَا يَسْلَمُ ذَلِكَ وَتَسْلَمُ الْأَرْضُ " قَالَ: " فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ فَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حنظلہ بن قیس انصاری رحمہ اللہ نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم اکثر اہل مدینہ زراعت کرتے تھے، ہم ایک کنارے کے عوض زمین کرایہ پر لیتے تھے جو صاحب زمین کا ہوتا تھا۔ پھر کبھی یہ زمین خراب ہوتی کبھی وہ اور کبھی یہ صحیح رہتی اور کبھی وہ۔ پھر آپ ﷺ نے اس سے ہم کو منع کر دیا۔ رہا سونا اور چاندی تو یہ اس زمانہ میں نہیں ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11723
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 11724
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدٍ هُوَ ابْنُ ظُهَيْرٍ ابْنُ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَاهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، وَيَشْتَرِطُ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ، وَيَشْتَرِطُ الْقُصَارَةَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ، وَكَانَ الْعَيْشُ إِذْ ذَاكَ شَدِيدًا، قَالَ: وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهَا بِالْحَدِيدِ وَبِمَا شَاءَ اللهُ، وَنُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَنْفَعَةً، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ؛ فَإِنَّهُ يَنْهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَيَقُولُ: " مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، أَوْ لَيَدَعْ "، وَيَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ الْمَالُ الْعَظِيمُ مِنَ النَّخْلِ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقِ تَمْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ظہیر کے بیٹے سیدنا رسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی اپنی زمین سے مستثنیٰ ہو جاتا تو وہ ثلث، ربع اور نصف پر دے دیتا اور تین نالیوں کی، بھوسے کی، ربیع کے پانی کی، پیداوار کی شرط لگاتا اور حالات سخت تھے۔ ہم زمینوں میں لوہے سے کام کرتے تھے اور جس سے اللہ چاہتا ہمیں نفع مل جاتا تھا۔ ہمارے پاس سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: تم کو رسول اللہ ﷺ نے ایسے کام سے منع کیا ہے جس میں تمہارے لیے نفع ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ نفع مند ہے؛ آپ ﷺ نے تم کو محاقلہ سے منع کیا اور فرمایا: ”جو اپنی زمین سے بے بس ہو، وہ اپنے بھائی کو دے دے یا اسے چھوڑ دے۔“ اور تم کو مزابنہ سے منع کیا اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی کے پاس باغ ہو، پھر ایک آدمی آئے اور کہے: میں اسے اتنے وسق کھجوروں کے عوض لیتا ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11724
درجۂ حدیث محدثین: ابن ماجه 2460
تخریج حدیث «ابن ماجه 2460»
حدیث نمبر: 11725
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَقَالَ: " إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَيَزْرَعُهَا، وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ، وَرَجُلٌ اكْتَرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ سے اور مزابنہ سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”تین طرح زراعت کی جاسکتی ہے: زمین کا مالک کھیتی باڑی کرے اور وہ آدمی جسے زمین دی جائے وہ زراعت کرے اور وہ آدمی جو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11725
درجۂ حدیث محدثین: حسن ابوداؤد3400
تخریج حدیث «حسن ابوداؤد3400»
حدیث نمبر: 11726
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، ثنا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا، فَسَأَلَهُ: " لِمَنِ الزَّرْعُ؟ وَلِمَنِ الْأَرْضُ؟ " فَقَالَ: زَرْعِي بِبَذْرِي وَعَمَلِي، لِي الشَّطْرُ وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ، فَقَالَ: " أَرْبَيْتُمَا "، فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ زمین میں کھیتی باڑی کرتے تھے، پھر نبی ﷺ پاس سے گزرے اور وہ پانی لگا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کس کے لیے زراعت کر رہے ہو اور زمین کس کی ہے؟“ رافع رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میری زراعت، میرے بیج اور میرے کام کی وجہ سے نصف میرا اور نصف بنی فلاں کا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سودی لین دین کیا ہے، تو زمین اس کے مالک پر لوٹا دے اور اپنا خرچ لے لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11726
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابوداؤد 3402»
حدیث نمبر: 11727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ يَعْلَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ النَّاسُ يُكْرُونَ الْمَزَارِعَ بِمَا يَكُونُ عَلَى السَّاقِي، وَبِمَا صَعِدَ بِالْمَاءِ مِمَّا حَوْلَ النَّبْتِ كَانَ مِنَ الزَّرْعِ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُكْرُوا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ پانی پر اور جو (حصہ) کنویں کے کنارے پر ہوتا تھا اس پر کھیتی باڑی کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس سے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ: ”انہیں سونے اور چاندی کے بدلے کرایے پر لیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11727
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»