السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11720
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا لَيْثٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّايَ " أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُنْبِتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ " فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: كَيْفَ هِيَ بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَا بَأْسَ بِهَا بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنِ اللَّيْثِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے چچاؤں رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں زمین کرایہ پر دیتے تھے، اس کے بدلے جو زمین کی پیداوار ہوتی تھی یا اس چیز کے بدلے جسے زمین کا مالک مستثنیٰ قرار دیتا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے اس سے منع کر دیا۔ میں نے رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: درہموں اور دیناروں کے بدلے کیسا ہے؟ تو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔