السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ: " كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا، فَكُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَّا الْوَرِقُ فَلَمْ يَنْهَنَا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.حافظ ثناء اللہ
حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم اکثر انصاری زمین کا محاقلہ کرتے تھے۔ ہم زمین کرایہ پر دیتے اس شرط پر کہ اس میں سے ہمارے لیے یہ ہوگا اور یہ ان کے لیے۔ کبھی اس کی پیداوار ہو جاتی اور کبھی نہ ہوتی تو آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔ رہا چاندی کا مسئلہ تو اس سے ہم کو منع نہیں فرمایا۔