السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11719
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَإِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا " قَالَ: فَسَأَلْتُهُ عَنْ كِرَائِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِكِرَائِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ".حافظ ثناء اللہ
حنظلہ بن قیس نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ”پیداوار کے بدلے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا“ حنظلہ کہتے ہیں: میں نے سونے اور چاندی کے بدلے دینے کے بارے میں سوال کیا تو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔