السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: ⦗٢١٧⦘ كَتَبَ إِلِيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ فَنُكْرِيهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ نُكْرِيهَا بِالْأَرْضِ، فَمَا شَعَرْتُ يَوْمًا إِذْ لَقِيَنِي بَعْضُ عُمُومَتِي فَقَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَنَا وَأَنْفَعُ، كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ فَنُكْرِيهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا أَوْ يُزْرِعَهَا، وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَرَادَ بِالطَّعَامِ الْمُسَمَّى مَا يَخْرُجُ مِنْ تِلْكَ الْأَرْضِ، وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ عَنْ رَافِعٍ وَكَرِهَ كِرَاءَهَا، يَعْنِي بِذَلِكَ وَمَا فِي مَعْنَاهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم زمین محاقلہ پر لیا کرتے تھے، ہم زمین کرایہ پر دیتے تھے ثلث، ربع اور معلوم کھانے کے بدلے میں اور ان دنوں سونا اور چاندی نہ تھے۔ ایک دن مجھے میرے ایک چچا ملے انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایسے کاموں سے منع کیا ہے جس میں ہمارے لیے نفع ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی خوشی ہمارے لیے زیادہ نفع مند ہے۔ ہم زمین کا محاقلہ کرتے تھے اور اس کو ثلث، ربع اور معلوم کھانے کے عوض کرایہ پر دیتے تھے، پھر آپ ﷺ نے ہمیں منع کر دیا اور زمین کے مالک کو حکم دیا کہ ”خود کھیتی باڑی کرے یا اس میں کھیتی باڑی کروائے“ اور اسے کرایہ پر دینا مکروہ قرار دیا۔