السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11716
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ قَالَ: صَحِبْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ سِتَّ سِنِينَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّهُ لَقِيَهُ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، قَالَ رَافِعٌ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الْحَقُّ، قَالَ: " أَرَأَيْتَ مَحَاقِلَكُمْ، مَاذَا تَصْنَعُونَ بِهَا؟ " قُلْنَا: نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ، قَالَ " فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا أَوْ أَمْسِكُوهَا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.حافظ ثناء اللہ
ابونجاشی فرماتے ہیں: میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کے ساتھ چھ سال رہا، انہوں نے مجھے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ایک دن وہ ان سے ملے اور کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایسے کام سے منع کیا ہے جس میں ہمارے لیے نفع ہے۔ رافع رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے کہا: جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ حق ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے جو تم «الْمُحَاقَلَةُ» کرتے ہو؟“ ہم نے کہا: ہم اجرت لیتے ہیں ربع پر اور کھجور اور جو کے وسق کے بدلے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، اس میں کھیتی باڑی کرو یا اسے چھوڑ دو۔“