السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11714
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَدِمَ عَلَيْهِ بَعْضُ عُمُومَتِهِ، قَالَ قَتَادَةُ: اسْمُهُ ظُهَيْرٌ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ اللهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا وَأَنْفَعُ. قَالَ الْقَوْمُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكَارِيهَا بِالثُّلُثِ، وَلَا بِالرُّبُعِ، وَلَا طَعَامٍ مُسَمًّى " رَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں محاقلہ کیا کرتے تھے۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے چچوں میں سے کوئی آئے، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان کا نام ظہیر رضی اللہ عنہ تھا، کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے ایسے کام سے منع کیا ہے جس میں ہمارے لیے نفع ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشی ہمارے لیے زیادہ نفع والی ہے۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کیا کام ہے؟ فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جس کے پاس زمین ہو، وہ اس میں کھیتی باڑی کرے یا اپنے بھائی کو کرنے دے اور ثلث، ربع اور کھانے کے بدلے کرایہ پر نہ دے۔“