السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11713
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَصِيبٍ مِنَ الْقُصَرَّى وَمِنْ كَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ فَلْيُحْرِثْهَا أَخَاهُ، وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مخابرہ (بٹائی) کیا کرتے تھے تو اس اناج میں حصہ لیتے تھے جو کاٹنے کے بعد نالیوں میں رہ جاتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اسے کھیتی باڑی پر لگائے یا اپنے بھائی کو کھیتی کرنے دے، ورنہ اس کو اسی طرح رہنے دے۔“