السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ الْأَرْضَ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ بِالْمَاذِيَانَاتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، وَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ لَمْ يَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَلْيُمْسِكْهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى.حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ثلث اور ربع پر نہر کے کنارے زمین لیتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو اسے چاہیے کہ وہ کھیتی باڑی کرے، اگر خود نہ کر سکتا ہو تو اپنے بھائی کو دے دے، اگر وہ بھی نہ لے تو اسے یوں ہی چھوڑ دے۔“