السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: أخذ الأجرة على تعليم القرآن والرقية به باب: قرآن مجید کی تعلیم دینے اور اس کے ذریعے دم کرنے پر اجرت لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11679
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَأَلْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ عَنْ أَجْرِ الْمُعَلِّمِ، قَالَ: " أَرَى لَهُ أَجْرًا " قَالَ شُعْبَةُ: وَسَأَلْتُ الْحَكَمَ، فَقَالَ: " لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَكْرَهُهُ " قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ: وَقَالَ الْحَكَمُ: لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا كَرِهَ أَجْرَ الْمُعَلِّمِ قَالَ: وَلَمْ يَرَ ابْنُ سِيرِينَ بِأَجْرِ الْمُعَلِّمِ بَأْسًا قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ وَأَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرَيَانِ بِتَعْلِيمِ الْغِلْمَانِ بِالْأَجْرِ بَأْسًا وَعَنِ الْحَسَنِ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: إِذَا قَاطَعَ الْمُعَلِّمُ وَلَمْ يَعْدِلْ كُتِبَ مِنَ الظَّلَمَةِ.حافظ ثناء اللہ
(الف) شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن قرہ سے معلم کی اجرت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں اس کے لیے اجرت کی رائے رکھتا ہوں۔
(ب) حکم کہتے ہیں: میں نے کسی سے اس کی کراہت نہیں سنی۔ امام بخاری رحمہ اللہ ترجمہ میں ذکر کرتے ہیں کہ حکم نے فرمایا: میں نے معلم کی اجرت کے بارے میں کسی کی کراہت نہیں سنی اور فرمایا: ابن سیرین بھی معلم کی اجرت کے بارے میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(ج) عطاء اور ابو قلابہ بچوں کو تعلیم دینے پر اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(د) حسن رحمہ اللہ سے منقول ہے: جب معلم قطع تعلقی کرے اور عدل نہ کرے تو یہ اس کا ظلم لکھا جائے گا۔