السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: أخذ الأجرة على تعليم القرآن والرقية به باب: قرآن مجید کی تعلیم دینے اور اس کے ذریعے دم کرنے پر اجرت لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11678
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْحَمَّالُ، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى الدَّقِيقِيُّ، عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ مُعَلِّمُونَ كَانُوا بِالْمَدِينَةِ يُعَلِّمُونَ الصِّبْيَانَ، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْزُقُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا كُلَّ شَهْرٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ وَكِيعٍ.حافظ ثناء اللہ
وضین بن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مدینہ میں تین معلم بچوں کو پڑھاتے تھے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان میں سے ہر ایک کو ماہانہ دس درہم معاوضہ عطا فرماتے تھے۔