کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: قرآن مجید کی تعلیم دینے اور اس کے ذریعے دم کرنے پر اجرت لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11676
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي أَبَا مَعْشَرٍ الْبَرَاءَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ وَفِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ، فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَقَالَ لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ، إِنَّ فِي الْمَاءِ رَجُلًا لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ أُمَّ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ، فَبَرَأَ، فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَكَرِهُوا ذَلِكَ وَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللهِ أَجْرًا، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سِيدَانَ بْنِ مُضَارِبٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے چند صحابہ پانی کے ایک مقام کے پاس سے گزرے، وہاں ایک آدمی تھا جسے بچھو نے کاٹا ہوا تھا۔ اس قبیلے کا ایک آدمی صحابہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ ہمارے ایک آدمی کو بچھو نے ڈس لیا ہے۔ ان صحابہ میں سے ایک آدمی گیا، اس نے چند بکریوں کے عوض سورہ فاتحہ کے ساتھ دم کیا۔ اس آدمی کو شفا مل گئی۔ یہ صحابی بکریاں لے کر صحابہ کے پاس آئے، انہوں نے اس فعل کو ناپسند کیا اور کہا: تو نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم جس چیز پر اجرت لیتے ہو ان میں اللہ کی کتاب سب سے زیادہ حق دار ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإجارة / حدیث: 11676
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 5737
تخریج حدیث «بخاري 5737»
حدیث نمبر: 11677
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، وَمُسَدَّدٌ، وَالْحَجَبِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَهْطًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا حَتَّى نَزَلُوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ، فَلُدِغَ سَيِّدُ الْحِيِّ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ، حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلَاءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ نَزَلُوا بِكُمْ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَكُمْ، فَأَتَوْهُمْ فَقَالُوا: أَيُّهَا الرَّهْطُ، إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ، فَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَيْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَنَا؟ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نَعَمْ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْقِي، وَلَكِنْ وَاللهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا، فَمَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا، فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعٍ مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَيْهِ وَيَقُولُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: ٢] حَتَّى بَرَأَ فَكَأَنَّمَا نَشَطَ مِنْ عِقَالٍ حَتَّى انْطَلَقَ يَمْشِي مَا بِهِ قَلَبَةٌ، فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اقْسِمُوا، فَقَالَ الَّذِي رَقَى: لَا تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ فَنَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا بِهِ، قَالَ فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " مَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ " قَالَ: وَقَالَ: " أَصَبْتُمُ اقْتَسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: حُدِّثْنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ عَلَى الِانْفِرَادِ، وَزَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ، وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ ⦗٢٠٦⦘ وَحَدِيثُ الْمُزَوَّجَةِ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ دَلِيلٌ فِيهِ، وَمَوْضِعُهُ كِتَابُ الصَّدَاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار صحابہ کرام کی ایک جماعت کسی سفر میں گئی، انہوں نے راستے میں کسی عرب قبیلے کے قریب پڑاؤ ڈالا اور ان سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا، قبیلے کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا، انہوں نے ہر طرح کوشش کی لیکن کچھ افاقہ نہ ہوا، ایک شخص کہنے لگا: اس جماعت کے پاس جاؤ جو تمہارے ہاں ٹھہری ہوئی ہے، شاید ان کے پاس اس کا کوئی علاج ہو، چنانچہ انہوں نے کہا: اے جماعت! ہمارے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا ہے اور ہم ہر طرح کوشش کر چکے ہیں لیکن افاقہ نہیں ہو رہا، تمہارے پاس اس کا کوئی علاج اور حل ہے؟ تو ایک صحابی کہنے لگے: ہاں، میں دم کرنا جانتا ہوں، لیکن ہم نے تم سے کھانا مانگا تو تم نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا، اب میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا جب تک تم مجھے اس کا کچھ عوض نہ دو، چنانچہ انہوں نے صحابہ سے بکریوں کے ایک ریوڑ پر صلح کر لی، وہ صحابی گئے اور اسے دم کرنے لگے اور وہ سورہ فاتحہ پڑھتے رہے، تھوڑی دیر بعد وہ بالکل تندرست ہو گیا گویا اسے رسیوں سے کھول دیا گیا ہو اور وہ چلنے لگا گویا اسے کوئی تکلیف نہ ہو، چنانچہ انہوں نے وعدے کے مطابق وہ عوض ادا کر دیا، لوگوں نے کہا: اسے تقسیم کر لو، وہ دم والے صحابی کہنے لگے: ٹھہرو! ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر مسئلہ معلوم کریں پھر وہ جو حکم فرمائیں، چنانچہ وہ صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ قصہ بیان کیا، رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے؟“ پھر فرمایا: ”اسے تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھنا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإجارة / حدیث: 11677
حدیث نمبر: 11678
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْحَمَّالُ، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى الدَّقِيقِيُّ، عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ مُعَلِّمُونَ كَانُوا بِالْمَدِينَةِ يُعَلِّمُونَ الصِّبْيَانَ، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْزُقُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا كُلَّ شَهْرٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ وَكِيعٍ.
حافظ ثناء اللہ
وضین بن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مدینہ میں تین معلم بچوں کو پڑھاتے تھے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان میں سے ہر ایک کو ماہانہ دس درہم معاوضہ عطا فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإجارة / حدیث: 11678
حدیث نمبر: 11679
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَأَلْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ عَنْ أَجْرِ الْمُعَلِّمِ، قَالَ: " أَرَى لَهُ أَجْرًا " قَالَ شُعْبَةُ: وَسَأَلْتُ الْحَكَمَ، فَقَالَ: " لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَكْرَهُهُ " قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ: وَقَالَ الْحَكَمُ: لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا كَرِهَ أَجْرَ الْمُعَلِّمِ قَالَ: وَلَمْ يَرَ ابْنُ سِيرِينَ بِأَجْرِ الْمُعَلِّمِ بَأْسًا قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ وَأَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرَيَانِ بِتَعْلِيمِ الْغِلْمَانِ بِالْأَجْرِ بَأْسًا وَعَنِ الْحَسَنِ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: إِذَا قَاطَعَ الْمُعَلِّمُ وَلَمْ يَعْدِلْ كُتِبَ مِنَ الظَّلَمَةِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن قرہ سے معلم کی اجرت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں اس کے لیے اجرت کی رائے رکھتا ہوں۔
(ب) حکم کہتے ہیں: میں نے کسی سے اس کی کراہت نہیں سنی۔ امام بخاری رحمہ اللہ ترجمہ میں ذکر کرتے ہیں کہ حکم نے فرمایا: میں نے معلم کی اجرت کے بارے میں کسی کی کراہت نہیں سنی اور فرمایا: ابن سیرین بھی معلم کی اجرت کے بارے میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(ج) عطاء اور ابو قلابہ بچوں کو تعلیم دینے پر اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(د) حسن رحمہ اللہ سے منقول ہے: جب معلم قطع تعلقی کرے اور عدل نہ کرے تو یہ اس کا ظلم لکھا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإجارة / حدیث: 11679
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔أخرجه ابن الجعد 1103»
حدیث نمبر: 11680
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ رَجَاءٍ الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحُلْوَانِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا مُوسَى بْنُ خَاقَانَ، وَفَضَلُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَعْرَجُ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَمْ يَكُنْ لِأُنَاسٍ مِنْ أُسَارَى بَدْرٍ فِدَاءٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ، قَالَ: فَجَاءَ غُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَبْكِي يَوْمًا إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي، قَالَ: الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ، وَاللهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بدر کے قیدیوں پر کوئی فدیہ نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو فدیہ پر مقرر کیا تھا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا سکھا دیں۔ ایک دن انصار کا ایک بچہ روتا ہوا اپنے باپ کے پاس آیا۔ باپ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: مجھے میرے استاد نے مارا ہے۔ اس نے کہا: خبیث آدمی بدر کا کینہ طلب کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! آئندہ تو اس کے پاس نہ جانا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإجارة / حدیث: 11680
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»