حدیث نمبر: 11680
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ رَجَاءٍ الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحُلْوَانِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا مُوسَى بْنُ خَاقَانَ، وَفَضَلُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَعْرَجُ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَمْ يَكُنْ لِأُنَاسٍ مِنْ أُسَارَى بَدْرٍ فِدَاءٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ، قَالَ: فَجَاءَ غُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَبْكِي يَوْمًا إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي، قَالَ: الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ، وَاللهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بدر کے قیدیوں پر کوئی فدیہ نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو فدیہ پر مقرر کیا تھا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا سکھا دیں۔ ایک دن انصار کا ایک بچہ روتا ہوا اپنے باپ کے پاس آیا۔ باپ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: مجھے میرے استاد نے مارا ہے۔ اس نے کہا: خبیث آدمی بدر کا کینہ طلب کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! آئندہ تو اس کے پاس نہ جانا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإجارة / حدیث: 11680
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»