حدیث نمبر: 11677
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، وَمُسَدَّدٌ، وَالْحَجَبِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَهْطًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا حَتَّى نَزَلُوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ، فَلُدِغَ سَيِّدُ الْحِيِّ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ، حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلَاءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ نَزَلُوا بِكُمْ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَكُمْ، فَأَتَوْهُمْ فَقَالُوا: أَيُّهَا الرَّهْطُ، إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ، فَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَيْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَنَا؟ قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نَعَمْ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْقِي، وَلَكِنْ وَاللهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا، فَمَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا، فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعٍ مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَيْهِ وَيَقُولُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: ٢] حَتَّى بَرَأَ فَكَأَنَّمَا نَشَطَ مِنْ عِقَالٍ حَتَّى انْطَلَقَ يَمْشِي مَا بِهِ قَلَبَةٌ، فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اقْسِمُوا، فَقَالَ الَّذِي رَقَى: لَا تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ فَنَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا بِهِ، قَالَ فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " مَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ " قَالَ: وَقَالَ: " أَصَبْتُمُ اقْتَسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: حُدِّثْنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ عَلَى الِانْفِرَادِ، وَزَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ، وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ ⦗٢٠٦⦘ وَحَدِيثُ الْمُزَوَّجَةِ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ دَلِيلٌ فِيهِ، وَمَوْضِعُهُ كِتَابُ الصَّدَاقِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار صحابہ کرام کی ایک جماعت کسی سفر میں گئی، انہوں نے راستے میں کسی عرب قبیلے کے قریب پڑاؤ ڈالا اور ان سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا، قبیلے کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا، انہوں نے ہر طرح کوشش کی لیکن کچھ افاقہ نہ ہوا، ایک شخص کہنے لگا: اس جماعت کے پاس جاؤ جو تمہارے ہاں ٹھہری ہوئی ہے، شاید ان کے پاس اس کا کوئی علاج ہو، چنانچہ انہوں نے کہا: اے جماعت! ہمارے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا ہے اور ہم ہر طرح کوشش کر چکے ہیں لیکن افاقہ نہیں ہو رہا، تمہارے پاس اس کا کوئی علاج اور حل ہے؟ تو ایک صحابی کہنے لگے: ہاں، میں دم کرنا جانتا ہوں، لیکن ہم نے تم سے کھانا مانگا تو تم نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا، اب میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا جب تک تم مجھے اس کا کچھ عوض نہ دو، چنانچہ انہوں نے صحابہ سے بکریوں کے ایک ریوڑ پر صلح کر لی، وہ صحابی گئے اور اسے دم کرنے لگے اور وہ سورہ فاتحہ پڑھتے رہے، تھوڑی دیر بعد وہ بالکل تندرست ہو گیا گویا اسے رسیوں سے کھول دیا گیا ہو اور وہ چلنے لگا گویا اسے کوئی تکلیف نہ ہو، چنانچہ انہوں نے وعدے کے مطابق وہ عوض ادا کر دیا، لوگوں نے کہا: اسے تقسیم کر لو، وہ دم والے صحابی کہنے لگے: ٹھہرو! ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر مسئلہ معلوم کریں پھر وہ جو حکم فرمائیں، چنانچہ وہ صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ قصہ بیان کیا، رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے؟“ پھر فرمایا: ”اسے تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھنا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإجارة / حدیث: 11677