السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: أخذ الأجرة على تعليم القرآن والرقية به باب: قرآن مجید کی تعلیم دینے اور اس کے ذریعے دم کرنے پر اجرت لینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي أَبَا مَعْشَرٍ الْبَرَاءَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ وَفِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ، فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَقَالَ لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ، إِنَّ فِي الْمَاءِ رَجُلًا لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ أُمَّ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ، فَبَرَأَ، فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَكَرِهُوا ذَلِكَ وَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللهِ أَجْرًا، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سِيدَانَ بْنِ مُضَارِبٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے چند صحابہ پانی کے ایک مقام کے پاس سے گزرے، وہاں ایک آدمی تھا جسے بچھو نے کاٹا ہوا تھا۔ اس قبیلے کا ایک آدمی صحابہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ ہمارے ایک آدمی کو بچھو نے ڈس لیا ہے۔ ان صحابہ میں سے ایک آدمی گیا، اس نے چند بکریوں کے عوض سورہ فاتحہ کے ساتھ دم کیا۔ اس آدمی کو شفا مل گئی۔ یہ صحابی بکریاں لے کر صحابہ کے پاس آئے، انہوں نے اس فعل کو ناپسند کیا اور کہا: تو نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم جس چیز پر اجرت لیتے ہو ان میں اللہ کی کتاب سب سے زیادہ حق دار ہے۔“