السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: الإمام يضمن والمعلم يغرم من صار مقتولا بتعزير الإمام وتأديب المعلم باب: جو شخص امام (حکمران) کی تعزیر یا استاد کی تادیب (سزا) سے مارا جائے تو امام ضامن ہوگا اور استاد تاوان ادا کرے گا۔
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا الْوَلِيدِ الْفَقِيهَ أَخْبَرَهُمْ قَالَ: ثنا الْمَاسَرْجِسِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا سَلَّامٌ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَلَغَهُ أَنَّ امْرَأَةً بَغِيَّةً يَدْخُلُ عَلَيْهَا الرِّجَالُ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولًا، فَأَتَاهَا الرَّسُولُ فَقَالَ: أَجِيبِي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَفَزِعَتْ فَزْعَةً وَقَعَتِ الْفَزْعَةُ فِي رَحِمِهَا؛ فَتَحَرَّكَ وَلَدُهَا، فَخَرَجَتْ فَأَخَذَهَا الْمَخَاضُ فَأَلْقَتْ غُلَامًا جَنِينًا، فَأَتَى عُمَرَ بِذَلِكَ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْمُهَاجِرِينَ فَقَصَّ عَلَيْهِمْ أَمْرَهَا، فَقَالَ: مَا تَرَوْنَ؟ فَقَالُوا: مَا نَرَى عَلَيْكَ شَيْئًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّمَا أَنْتَ مُعَلِّمٌ وَمُؤَدِّبٌ، وَفِي الْقَوْمِ عَلِيٌّ، وَعَلِيٌّ سَاكِتٌ، قَالَ: فَمَا تَقُولُ أَنْتَ يَا أَبَا الْحَسَنِ؟ قَالَ: أَقُولُ: " إِنْ كَانُوا قَارَبُوكَ فِي الْهَوَى فَقَدْ أَثِمُوا، وَإِنْ كَانَ هَذَا جَهْدُ رَأْيِهِمْ فَقَدْ أَخْطَأُوا، وَأَرَى عَلَيْكَ الدِّيَةَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ " قَالَ: صَدَقْتَ، اذْهَبْ فَاقْسِمْهَا عَلَى قَوْمِكَ.حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پتا چلا کہ ایک سرکش عورت کے پاس لوگ آتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس ایک آدمی بھیجا، اس آدمی نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو پیغام بھیجا ہے، اس کا جواب دو۔ وہ جزع فزع کرنے لگی۔ اس کی حرکت سے اس کے رحم کا بچہ حرکت کر گیا، اس نے اسے نکال دیا، پھر اسے دردِ زہ شروع ہو گیا تو اس نے جنین بھی پھینک دیا۔ اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، آپ نے مہاجرین کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے اس بارے میں رائے مانگی تو انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ پر کچھ نہیں ہے، آپ تو معلم اور مؤدب ہیں۔ قوم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ خاموش تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوالحسن! آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آپ کہنے لگے: اگر وہ آپ کے قریبی تھے ذاتی انتقام کی وجہ سے تو وہ گناہ گار ہیں، اگر ان کا اجتہاد تھا تو انہوں نے غلطی کی اور اے امیر المومنین! میں آپ کو دیت کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سچ کہا ہے اور فرمایا: جاؤ اس کی قوم پر اس (دیت) کو تقسیم کر دو۔