السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: الإمام يضمن والمعلم يغرم من صار مقتولا بتعزير الإمام وتأديب المعلم باب: جو شخص امام (حکمران) کی تعزیر یا استاد کی تادیب (سزا) سے مارا جائے تو امام ضامن ہوگا اور استاد تاوان ادا کرے گا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ قَالَ: " التَّعْزِيرُ أَدَبٌ لَا حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللهِ، وَقَدْ كَانَ يَجُوزُ تَرْكُهُ إِلَّا أَنْ يَرَى أُمُورًا قَدْ فُعِلَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ غَيْرَ حُدُودٍ فَلَمْ يَضْرِبْ فِيهَا، مِنْهَا الْغُلُولُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَغَيْرُ ذَلِكَ، وَلَمْ يُؤْتَ بِحَدٍّ قَطُّ فَعَفَا " قَالَ: وَقِيلَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ⦗٢٠٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى امْرَأَةٍ فِي شَيْءٍ بَلَغَهُ عَنْهَا، فَأُسْقِطَتْ، فَاسْتَشَارَ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: أَنْتَ مُؤَدِّبٌ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: إِنْ كَانَ اجْتَهَدَ فَقَدْ أَخْطَأَ، وَإِنْ لَمْ يَجْتَهِدْ فَقَدْ غَشَّ، عَلَيْكَ الدِّيَةُ، قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ أَنْ لَا تَجْلِسَ حَتَّى تَضْرِبَهَا عَلَى قَوْمِكَ قَالَ: وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا أَحَدٌ يَمُوتُ فِي حَدٍّ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْئًا، الْحَقُّ قَتْلُهُ إِلَّا مَنْ مَاتَ فِي حَدِّ خَمْرٍ؛ فَإِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ مَاتَ فِيهِ فَدِيَتُهُ إِمَّا قَالَ: عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، وَإِمَّا قَالَ: عَلَى عَاقِلَةِ الْإِمَامِ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تعزیر ادب (تادیب) ہے، اللہ کی حدود میں سے کوئی حد نہیں ہے اور اس کا ترک کرنا بھی جائز ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ کچھ کام رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہوئے جو حدود میں سے نہ تھے، مثلاً اللہ کے راستے میں خیانت کرنا اور اس کے علاوہ دیگر کام، تو آپ ﷺ نے ان میں مار نہیں لگائی، جبکہ آپ ﷺ کے پاس کبھی کوئی حد (کا مقدمہ) نہیں لایا گیا کہ آپ نے اسے معاف کر دیا ہو۔ اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو کسی بات کی وجہ سے جو انہیں اس کے بارے میں پہنچی تھی، بلا بھیجا تو اس کا حمل ساقط ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مشورہ کیا، ایک آدمی نے کہا: آپ «مُؤَدِّبٌ» ”تادیب کرنے والے“ ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اگر اس نے اجتہاد سے یہ بات کہی تو اس نے غلطی کی، اور اگر اجتہاد نہیں کیا تو اس نے آپ سے خیانت کی، آپ پر دیت لازم ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ اس وقت تک نہ بیٹھیں جب تک اسے اپنی قوم پر تقسیم نہ کر دیں۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جو کوئی حد میں مر جائے، میں اپنے دل میں اس کے بارے میں کچھ محسوس نہیں کرتا، حق نے اسے قتل کیا ہے، مگر شراب کی حد میں مرنے والا، بیشک وہ ایسی چیز ہے جو ہم نے نبی ﷺ کے بعد اختیار کی ہے۔ جو اس میں فوت ہو اس کی دیت یا تو، انہوں نے فرمایا: بیت المال پر ہو گی، یا فرمایا: امام (خلیفہ) کے عاقلہ پر ہو گی۔