کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جو شخص امام (حکمران) کی تعزیر یا استاد کی تادیب (سزا) سے مارا جائے تو امام ضامن ہوگا اور استاد تاوان ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 11672
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ قَالَ: " التَّعْزِيرُ أَدَبٌ لَا حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللهِ، وَقَدْ كَانَ يَجُوزُ تَرْكُهُ إِلَّا أَنْ يَرَى أُمُورًا قَدْ فُعِلَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ غَيْرَ حُدُودٍ فَلَمْ يَضْرِبْ فِيهَا، مِنْهَا الْغُلُولُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَغَيْرُ ذَلِكَ، وَلَمْ يُؤْتَ بِحَدٍّ قَطُّ فَعَفَا " قَالَ: وَقِيلَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ⦗٢٠٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى امْرَأَةٍ فِي شَيْءٍ بَلَغَهُ عَنْهَا، فَأُسْقِطَتْ، فَاسْتَشَارَ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: أَنْتَ مُؤَدِّبٌ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: إِنْ كَانَ اجْتَهَدَ فَقَدْ أَخْطَأَ، وَإِنْ لَمْ يَجْتَهِدْ فَقَدْ غَشَّ، عَلَيْكَ الدِّيَةُ، قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ أَنْ لَا تَجْلِسَ حَتَّى تَضْرِبَهَا عَلَى قَوْمِكَ قَالَ: وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا أَحَدٌ يَمُوتُ فِي حَدٍّ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْئًا، الْحَقُّ قَتْلُهُ إِلَّا مَنْ مَاتَ فِي حَدِّ خَمْرٍ؛ فَإِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ مَاتَ فِيهِ فَدِيَتُهُ إِمَّا قَالَ: عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، وَإِمَّا قَالَ: عَلَى عَاقِلَةِ الْإِمَامِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سزا ادب ہے۔ اللہ کی حدود میں سے حد نہیں ہے اور اس کا ترک کرنا بھی جائز ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کچھ کام رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہوئے جو حدود میں سے نہ تھے مثلاً اللہ کے راستے میں خیانت کرنا اور اس کے علاوہ دیگر کام اور انھیں کبھی حد نہ لگی، بلکہ آپ ﷺ نے معاف کر دیا اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کسی عورت کی طرف کوئی چیز بھیجی، پھر آپ کو پتا چلا کہ اس عورت نے وہ گم کر دی ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مشورہ کیا، ایک آدمی نے کہا: آپ «مُؤَدِّبٌ» ”تادیب کرنے والے“ ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اگر اس نے اجتہاد سے یہ بات کہی تو اس نے غلطی کی۔ اگر اجتہاد نہیں کیا تو اس نے آپ کے ساتھ دیت پر خیانت کی اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ آپ جب تک اس کی قوم کو بتا نہ دیں اس وقت تک نہ بیٹھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جو کوئی حد میں قتل ہو جائے میرے خیال میں اس کا قتل حق ہے مگر شراب کی حد میں مرنے والا۔ بیشک وہ ایسی چیز ہے کہ ہم نے اسے نبی ﷺ کے بعد دیکھا ہے۔ جو شراب کی حد میں فوت ہوتا ہے اس کی دیت یا تو بیت المال سے ادا ہو گی یا امام (خلیفہ ) کے ذمہ ہو گی۔
حدیث نمبر: 11673
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا الْوَلِيدِ الْفَقِيهَ أَخْبَرَهُمْ قَالَ: ثنا الْمَاسَرْجِسِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا سَلَّامٌ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَلَغَهُ أَنَّ امْرَأَةً بَغِيَّةً يَدْخُلُ عَلَيْهَا الرِّجَالُ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولًا، فَأَتَاهَا الرَّسُولُ فَقَالَ: أَجِيبِي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَفَزِعَتْ فَزْعَةً وَقَعَتِ الْفَزْعَةُ فِي رَحِمِهَا؛ فَتَحَرَّكَ وَلَدُهَا، فَخَرَجَتْ فَأَخَذَهَا الْمَخَاضُ فَأَلْقَتْ غُلَامًا جَنِينًا، فَأَتَى عُمَرَ بِذَلِكَ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْمُهَاجِرِينَ فَقَصَّ عَلَيْهِمْ أَمْرَهَا، فَقَالَ: مَا تَرَوْنَ؟ فَقَالُوا: مَا نَرَى عَلَيْكَ شَيْئًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّمَا أَنْتَ مُعَلِّمٌ وَمُؤَدِّبٌ، وَفِي الْقَوْمِ عَلِيٌّ، وَعَلِيٌّ سَاكِتٌ، قَالَ: فَمَا تَقُولُ أَنْتَ يَا أَبَا الْحَسَنِ؟ قَالَ: أَقُولُ: " إِنْ كَانُوا قَارَبُوكَ فِي الْهَوَى فَقَدْ أَثِمُوا، وَإِنْ كَانَ هَذَا جَهْدُ رَأْيِهِمْ فَقَدْ أَخْطَأُوا، وَأَرَى عَلَيْكَ الدِّيَةَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ " قَالَ: صَدَقْتَ، اذْهَبْ فَاقْسِمْهَا عَلَى قَوْمِكَ.
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پتا چلا کہ ایک سرکش عورت کے پاس لوگ آتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس ایک آدمی بھیجا، اس آدمی نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو پیغام بھیجا ہے، اس کا جواب دو۔ وہ جزع فزع کرنے لگی۔ اس کی حرکت سے اس کے رحم کا بچہ حرکت کر گیا، اس نے اسے نکال دیا، پھر اسے دردِ زہ شروع ہو گیا تو اس نے جنین بھی پھینک دیا۔ اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، آپ نے مہاجرین کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے اس بارے میں رائے مانگی تو انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ پر کچھ نہیں ہے، آپ تو معلم اور مؤدب ہیں۔ قوم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ خاموش تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوالحسن! آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آپ کہنے لگے: اگر وہ آپ کے قریبی تھے ذاتی انتقام کی وجہ سے تو وہ گناہ گار ہیں، اگر ان کا اجتہاد تھا تو انہوں نے غلطی کی اور اے امیر المومنین! میں آپ کو دیت کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سچ کہا ہے اور فرمایا: جاؤ اس کی قوم پر اس (دیت) کو تقسیم کر دو۔
حدیث نمبر: 11674
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ بِهَا، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ الْقَصَّارُ، وَقَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ حَدٍّ أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدٌّ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ شَيْءٌ إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ، لَوْ مَاتَ لَوَدَيْتُهُ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَإِنَّمَا أَرَادَ لَمْ يَسُنَّ مَا وَرَاءَ الْأَرْبَعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ، وَهُوَ مَا زَادُوا عَلَى حَدِّهِ عَلَى وَجْهِ التَّعْزِيرِ، وَأَمَّا الْأَرْبَعُونَ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ وَأَطْرَافِ الثِّيَابِ فَهُوَ حَدٌّ ثَابِتٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس آدمی پر حد لگے، میں اپنے ذہن میں اس کے بارے میں کوئی چیز پاتا ہوں مگر صاحبِ خمر اگر فوت ہو جائے تو اس کی دیت دی جائے گی۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے جاری نہیں کیا۔
«لَمْ يَسُنَّهُ» سے مراد یہ ہے کہ چالیس سے اسی کے علاوہ نہیں جاری کیا اور حد میں جو انہوں نے زیادہ کیا وہ ڈرانے کی وجہ سے ہے۔ چالیس کھجور کی ٹہنی سے اور جوتوں سے اور کپڑے کے کنارے سے یہ حد نبی ﷺ سے ثابت ہے۔
«لَمْ يَسُنَّهُ» سے مراد یہ ہے کہ چالیس سے اسی کے علاوہ نہیں جاری کیا اور حد میں جو انہوں نے زیادہ کیا وہ ڈرانے کی وجہ سے ہے۔ چالیس کھجور کی ٹہنی سے اور جوتوں سے اور کپڑے کے کنارے سے یہ حد نبی ﷺ سے ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 11675
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمُعَلِّمِ يَضْرِبُ الْغُلَامَ عَلَى التَّأْدِيبِ فَيَعْطَبُ قَالَ: " يَغْرَمُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ سے ایسے معلم کے بارے میں پوچھا گیا جو ادب کے لیے بچے کو مار لے اور اسے نقصان پہنچائے تو انہوں نے فرمایا: وہ ذمہ دار ہے۔