السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: الإمام يضمن والمعلم يغرم من صار مقتولا بتعزير الإمام وتأديب المعلم باب: جو شخص امام (حکمران) کی تعزیر یا استاد کی تادیب (سزا) سے مارا جائے تو امام ضامن ہوگا اور استاد تاوان ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 11674
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ بِهَا، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ الْقَصَّارُ، وَقَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ حَدٍّ أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدٌّ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ شَيْءٌ إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ، لَوْ مَاتَ لَوَدَيْتُهُ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَإِنَّمَا أَرَادَ لَمْ يَسُنَّ مَا وَرَاءَ الْأَرْبَعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ، وَهُوَ مَا زَادُوا عَلَى حَدِّهِ عَلَى وَجْهِ التَّعْزِيرِ، وَأَمَّا الْأَرْبَعُونَ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ وَأَطْرَافِ الثِّيَابِ فَهُوَ حَدٌّ ثَابِتٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس آدمی پر حد لگے، میں اپنے ذہن میں اس کے بارے میں کوئی چیز پاتا ہوں مگر صاحبِ خمر اگر فوت ہو جائے تو اس کی دیت دی جائے گی۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے جاری نہیں کیا۔
«لَمْ يَسُنَّهُ» سے مراد یہ ہے کہ چالیس سے اسی کے علاوہ نہیں جاری کیا اور حد میں جو انہوں نے زیادہ کیا وہ ڈرانے کی وجہ سے ہے۔ چالیس کھجور کی ٹہنی سے اور جوتوں سے اور کپڑے کے کنارے سے یہ حد نبی ﷺ سے ثابت ہے۔