السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: لا ضمان على المكتري فيما اكترى إلا أن يتعدى باب: کرائے پر چیز لینے والے پر کرائے کی چیز کا کوئی تاوان نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وہ زیادتی (غفلت یا جان بوجھ کر نقصان) کرے۔
رُوِّينَا عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ عَلَى مُسْتَكْرٍ ضَمَانٌ، فَإِنْ تَعَدَّى فَجَاوَزَ عَلَيْهَا الْوَقْتَ فَعَطِبَتْ، قَالَ شُرَيْحٌ: يَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الْكِرَاءُ وَالضَّمَانُ.ہمیں قاضی شریح رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کرایہ پر (جانور) لینے والے پر کوئی ضمان (تاوان) نہیں ہے۔“
پھر اگر وہ زیادتی کرے اور مقررہ وقت سے تجاوز کر جائے اور وہ (جانور) ہلاک ہو جائے تو شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس پر کرایہ اور ضمان (تاوان) دونوں جمع ہوں گے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ أَكْرَى كِرَاءً فَجَاوَزَ صَاحِبَهُ ذَا الْحُلَيْفَةِ فَقَدْ وَجَبَ كِرَاؤُهُ، وَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ " يُرِيدُ وَاللهُ أَعْلَمُ إِذَا قَبَضَ الْمُكْتَرِي مَا اكْتَرَى وَجَاوَزَ ذَا الْحُلَيْفَةِ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ جَمِيعُ الْكِرَاءِ إِذَا لَمْ يَكُنْ شَرَطَ فِي الْأُجْرَةِ أَجَلًا، وَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ إِذَا لَمْ يَتَعَدَّ.سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جو آدمی کرایے پر کوئی چیز لے، پھر اس کا ساتھی ذوالحلیفہ کی طرف بھی تجاوز کرے تو اس پر کرایہ واجب ہے اور ضمان نہیں ہے۔ کرایے پر دینے والے نے جو کرایہ قبض کر لیا اور وہ ذوالحلیفہ کی طرف تجاوز کر گیا تو اس پر مکمل کرایہ واجب ہے؛ جب اجرت میں شرط نہ ہو اور جب تک وہ زیادتی نہ کرے اس پر ضمان نہیں ہے۔